مہنگائی، کرائے پر بیوی، نہرو پر مضمون اور کتے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہنگائی اور ارب پتی افراد میں اضافہ انڈیا میں اس ہفتے مہنگائی کا زور تھا اور سبھی کی مشترکہ پریشانی بھی یہی ہے۔ کہا جاتا تھا کہ زراعت ملک کی معیشت کا اصل منبع ہے، لیکن اب یہ خود کفیل ملک گیہوں، دال اور چینی کی درآمد پر مجبور ہے۔ سرکار کا کہنا ہے کہ سبزیوں کی بڑھتی قیمتوں کے بارے میں تو کچھ نہیں کیا جاسکتا لیکن اناج باہرسے منگانے سےمہنگائی پر کچھ تو قابو پایا جاسکے گا۔ خوش آئند خبر یہ ہے کہ ملک میں ملینرز یا ارب پتی افراد کی تعداد میں تیزی اضافہ ہورہا ہے۔ ایک طرف جہاں ملک میں سات سو ملین سے زیادہ لوگ غربت میں مبتلا ہیں تو دوسری طرف بیس فیصد ملینئرز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سروے کے مطابق دو ہزار چار میں ان کی تعداد ستر ہزار تھی جو دو ہزار پانچ میں تراسی ہزار ہوگئی ہے۔ اس معاملے میں بھارت دنیا میں صرف جنوبی کوریا سے پیچھے ہے جس کی ترقی کی رفتار اکیس فیصد سے بھی زیادہ ہے اور تیسرے نمبر پر روس ہے۔ اگر کسی کے پاس دس لاکھ امریکی ڈالر یا اس کے برابر کی مالیت ہو تو وہ ملینئر کہلاتا ہے۔ اسی طرح امریکہ میں ہر سو افراد میں سے ایک ملینئر ہے جبکہ بھارت میں تیرہ ہزار میں سے ایک شخص ملینئر ہے۔ بیویاں کرائے پر ملتی ہیں
اولاد کی طلب میں مادر رحم کو کرائے پردینے کے واقعات اب ایک عام بات ہیں، لیکن حال ہی پتہ چلا ہے کہ مغربی ریاست گجرات میں اب بیویاں بھی کرائے پردی جاتی ہیں۔ نام نہاد اعلٰی ذات کی برادریوں میں لڑکیوں کی کمی ہے، جس کے سبب بہت سے افراد کی شادیاں نہیں ہو پاتیں۔ اس لیئے بعض قبائلی علاقوں میں لڑکیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور جو لوگ اس میں بھی کامیاب نہیں ہوتے وہ دوسرے کی بیوی کو اپنے پاس ماہنامہ اجرت پر رکھتے ہیں۔ بعض غریب قبائلی عورتیں اپنے بچوں کی روزی روٹی کے لیئے یہ کام کرنے پر بھی مجبور ہیں۔ حال ہی میں پولیس نے ایک واقعے کی تفتیش کی ہے، جس کے مطابق پچھڑی ذات کے ایک شخص نے اپنی بیوی کو پٹیل خاندان کے ایک فرد کو آٹھ ہزار روپے ماہانہ کرائے پر دے رکھا تھا۔ یہاں کے بعض علاقوں میں اعلٰی ذات کے لوگوں کی شادیاں نہیں ہوپاتی ہیں اور قبائلیوں میں شدید غربت کے سبب یہ اس عمل کو بڑھاوا ملتا ہے۔ چاچانہرو آؤٹ
ریاست مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آج کل کورس کی کتابوں کے نصاب میں بڑی تبدیلیاں کرنے میں مصروف ہے۔ اس نے سکول میں پڑھائی جانے والی پہلے درجے کی کتابوں سے ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈٹ جواہر لال نہرو پر مبنی ایک مضمون کو ہٹانے کا فیصلہ کیاہے۔ سرکار '’ٹوئنکل ٹوئنکل لٹل اسٹار‘ اور ’ہمٹی ڈمٹی‘ جیسی بچوں کی مشہور انگریزی نظموں کو نصابی کتابوں سے پہلے ہی نکال چکی ہے۔ کانگریس پارٹی اس قدم سے سخت ناراض ہے اس کے مطابق یہ قدم اس لیئے اٹھایا گیا ہے کیونکہ وہ کانگریس پارٹی کے رہنما تھے۔ لیکن ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں پرغیر ضروری بوجھ زیادہ ہے اس لیئے یہ اقدامات کیئے جارہے ہیں اور جلد ہی کلاس چھ کی کتابوں سے پنڈٹ نہرو کی بیوی کملا نہرو پر مبنی مضمون بھی ہٹادیا جائے گا۔ لالو برانڈ آئیکون
بھارت میں سچن تندولکر، امیتابھ بچن، مہندر سنگھ دھونی اور شاہ رخ خان جیسی شخصیات اشتہارات کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں۔ لیکن بہار کے بازاروں میں لالو برانڈ کا طوطی بولتا ہے۔ بہار کی ایک کمپنی نے ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو کے نام پر بعض نئی مصنوعات شروع کی ہیں اور کمپنی کو زبردست فائدہ پہنچ رہا ہے۔ ویسے لالو کے گڈے گڑیا اور ’سافٹ ٹوائز‘ پہلے ہی بہت مقبول تھے لیکن اب بہار کے گاؤوں میں ’لالو پشو آہار‘ کے نام سے مویشیوں کا چارا کافی مقبول ہے۔ اس کے علاوہ ’لالو چلے سسرال‘ کے نام سے بعض خوبصورتی کو نکھارنے والی اشیاء بھی لانچ کی گئی ہیں اور وہ بڑی مقبول ہوئی ہیں۔ کپنی کے مالک کا کہنا ہے کہ فی الوقت ان اشیاء کو بہار میں ہی لانچ کیا گيا ہے اور جلد ہی ملک کے دوسرے حصوں میں بھی متعارف کروایا جائے گا۔ ’کتے کم کیئے جائیں‘
دارالحکومت دلی میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’پرو ایکٹیوارتھ کیئر سوسائٹی‘ کا کہنا ہے کہ کہ دو ہزار دس میں جس علاقے میں کامن ویلتھ گیمز ہوں گے وہاں تقریبًا پانچ ہزار کتے ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ گیمز ولیج کی تعمیر سے قبل ان کتوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے تاکہ وہ بے گھر نہ ہوں۔ تنظیم کے مطابق حکومت نے اس سلسلے میں مثبت رویہ اختیار کیا ہے اور انتظامیہ کتوں کو دوسرے مقام پر شفٹ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ تنظیم نے سرکار سے یہ بھی کہا ہے کہ کتوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان کی کوئی دیکھ بھال نہیں کی جاتی ہے اس لیئے حکومت کو چاہیے کہ کتوں کی آبادی کم کرنے کی منصوبہ بندی کرے۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: ملا کی سیاست اور مونسون کی آمد21 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||