ناخواندہ بچے، ہری بھری دلّی اور وی آئی پی سکیورٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تعلیم سے محروم لاکھوں بچے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ نے پوری دنیا کے بچوں پر اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطابق انڈیا کی ریاست بہار کے بچوں کی حالت تعلیم کے معاملے میں سب سے بری ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں چھ سے چودہ سال کے بچوں کی تعداد ایک کروڑ نوے لاکھ ہے اور ان میں سے سترہ فیصد یعنی تقریباً اکتیس لاکھ بچے اسکول نہیں جا پاتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہار کے بچے سب سے تیزی سے سیکھنے والوں میں شمار کیئے جاتے ہیں۔ یونیسیف کے اس پروجیکٹ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے تعلیم کے لیئے خاصا فنڈ آتا ہے لیکن ریاست اس فنڈ کا پندرہ سے بیس فی صد ہی استعمال کر پاتی ہے۔ ملک میں سب سے کم تعلیم یافتہ ایک سو پچاس اضلاع میں سے تیس بہار میں ہیں۔ بہار میں اس وقت چودہ لاکھ اساتذہ کی کمی ہے اور کم از کم ابھی وہاں مزید دو لاکھ کلاس رومز کی بھی ضرورت ہے۔ وی آئی پی سکیورٹی چاہیئے تو پیسہ دیں
اب مرکزی حکومت ایک تجویز پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ان شخصیات کو اپنی حفاظت کے مکمل یا جزوی اخراجات برداشت کرنے پڑیں گے۔ تاہم اس تجویز میں سیاسی رہنماؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔اعدادوشمار کے مطابق انڈیا میں اس وقت 2014 افراد ایسے ہیں جنہیں مسلح محافظ فراہم کیئے گئے ہیں اور ان میں 114 ایسے ہیں جنہیں ’زیڈ پلس‘ یعنی انتہائی نوعیت کی سکیورٹی دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ان حفاظتی ڈیوٹیوں پر 14388 کمانڈو اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ ہری بھری دلی
سنہ دو ہزار تین میں محکمۂ جنگلات نے جو جائزہ لیا تھا اس کے مطابق دلی میں دو سو اڑسٹھ مربع کلو میٹر علاقے پر درخت اور جنگلات واقع تھے لیکن اب یہ رقبہ بڑھ کر تقریبا تین سو چالیس مربع کلومیٹر ہوگیا ہے۔ سنہ 1993 میں جب سے شجر کاری کی مہم شروع کی گئی تھی دلی میں’گرین ایریا‘میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ دلی حکومت دارالحکومت کو نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا کا سب سے ہرا بھرا شہر بنانا چاہتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جلد ہی دلی کا ایک تہائی علاقہ درختوں سے بھرا ہوگا۔ دلی کا دلی وہِیل
منصوبہ کے مطابق اس جھولے کی چوڑائی ایک سو پچاس میٹر ہوگی اور اس میں جو بیٹھنے کی جگہیں بنائی جائیں گی اس میں چار افراد ایک ساتھ بیٹھ سکیں گے۔ اس جھولے میں بیٹھ کر لوگ انڈیا گیٹ، پرانہ قلعہ، صفدر جنگ اور ہمایوں کے مقبروں جیسی قدیم عمارتوں کا اونچائی سے نظارہ کر سکیں گے۔ گجرات نہ سہی جام نگر سہی
|
اسی بارے میں دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||