BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 June, 2006, 06:03 GMT 11:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ناخواندہ بچے، ہری بھری دلّی اور وی آئی پی سکیورٹی

بہار کی طالبات
بہار کے بچے سب سے تیزی سے سیکھنے والوں میں شمار کیئے جاتے ہیں
تعلیم سے محروم لاکھوں بچے
گزشتہ دنوں اقوام متحدہ نے پوری دنیا کے بچوں پر اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کے مطابق انڈیا کی ریاست بہار کے بچوں کی حالت تعلیم کے معاملے میں سب سے بری ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاست میں چھ سے چودہ سال کے بچوں کی تعداد ایک کروڑ نوے لاکھ ہے اور ان میں سے سترہ فیصد یعنی تقریباً اکتیس لاکھ بچے اسکول نہیں جا پاتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بہار کے بچے سب سے تیزی سے سیکھنے والوں میں شمار کیئے جاتے ہیں۔

یونیسیف کے اس پروجیکٹ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ مرکزی حکومت کی طرف سے تعلیم کے لیئے خاصا فنڈ آتا ہے لیکن ریاست اس فنڈ کا پندرہ سے بیس فی صد ہی استعمال کر پاتی ہے۔ ملک میں سب سے کم تعلیم یافتہ ایک سو پچاس اضلاع میں سے تیس بہار میں ہیں۔ بہار میں اس وقت چودہ لاکھ اساتذہ کی کمی ہے اور کم از کم ابھی وہاں مزید دو لاکھ کلاس رومز کی بھی ضرورت ہے۔

وی آئی پی سکیورٹی چاہیئے تو پیسہ دیں

حفاظتی ڈیوٹیوں پر 14388 کمانڈو اور پولیس اہلکار تعینات ہیں
انڈیا میں سیاسی رہنماؤں، فلمی ستاروں اور یہاں تک کہ مجرمانہ پس منظر رکھنے والے افراد کو بھی سکیورٹی گارڈز ملتے رہے ہیں۔ اکثر سیاست داں درجنوں مسلح کمانڈوؤں اور پولیس جوانوں کے گھیرے میں رہتے ہیں۔ مسلح محافظوں کا’ کلچر‘ اتر پردیش جیسی پسماندہ اور روایتی ریاستوں میں سیاسی حیثیت اور درجے کی علامت بن گیا ہے۔

اب مرکزی حکومت ایک تجویز پر غور کر رہی ہے جس کے تحت ان شخصیات کو اپنی حفاظت کے مکمل یا جزوی اخراجات برداشت کرنے پڑیں گے۔ تاہم اس تجویز میں سیاسی رہنماؤں کو شامل نہیں کیا گیا۔اعدادوشمار کے مطابق انڈیا میں اس وقت 2014 افراد ایسے ہیں جنہیں مسلح محافظ فراہم کیئے گئے ہیں اور ان میں 114 ایسے ہیں جنہیں ’زیڈ پلس‘ یعنی انتہائی نوعیت کی سکیورٹی دی گئی ہے۔ مجموعی طور پر ان حفاظتی ڈیوٹیوں پر 14388 کمانڈو اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

ہری بھری دلی

دلی درختوں کا شہر بن گیا ہے
یوں تو دارالحکومت دلی کو ایک اچھا شہر بنانے کے لیئے بہت سی کوششیں کی جا رہی ہیں جن میں سے کچھ کامیاب رہی ہیں تو کچھ ناکام لیکن کم از کم شہر میں شجر کاری کی مہم ضرور کامیاب رہی ہے۔ دلی کو اب باغوں کا نہ سہی لیکن درختوں کا شہر ضرور کہا جا سکتا ہے۔

سنہ دو ہزار تین میں محکمۂ جنگلات نے جو جائزہ لیا تھا اس کے مطابق دلی میں دو سو اڑسٹھ مربع کلو میٹر علاقے پر درخت اور جنگلات واقع تھے لیکن اب یہ رقبہ بڑھ کر تقریبا تین سو چالیس مربع کلومیٹر ہوگیا ہے۔ سنہ 1993 میں جب سے شجر کاری کی مہم شروع کی گئی تھی دلی میں’گرین ایریا‘میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔ دلی حکومت دارالحکومت کو نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا کا سب سے ہرا بھرا شہر بنانا چاہتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جلد ہی دلی کا ایک تہائی علاقہ درختوں سے بھرا ہوگا۔

دلی کا دلی وہِیل

’لندن آئی‘ کو سنہ 2000 میں عوام کے لیئے کھولا گیا تھا
دلی میں سنہ دو ہزار دس میں دولتِ مشترکہ کھیل ہونے والے ہیں اور شہر کو خوبصورت بنانے کے لیئے طرح طرح کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں محکمۂ سیاحت نے لندن میں ٹیمز کے کنارے موجود جھولے ’لندن آئی‘ کی طرز پر شہر کے ملینیئم پارک میں ’دلی وہیل‘ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

منصوبہ کے مطابق اس جھولے کی چوڑائی ایک سو پچاس میٹر ہوگی اور اس میں جو بیٹھنے کی جگہیں بنائی جائیں گی اس میں چار افراد ایک ساتھ بیٹھ سکیں گے۔ اس جھولے میں بیٹھ کر لوگ انڈیا گیٹ، پرانہ قلعہ، صفدر جنگ اور ہمایوں کے مقبروں جیسی قدیم عمارتوں کا اونچائی سے نظارہ کر سکیں گے۔

گجرات نہ سہی جام نگر سہی

گجرات میں’فنا‘ کی نمایش نہیں ہوئی
گجرات میں حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفت کے بعد سنیما گھروں میں عامر خان کی فلم ’فنا‘ کی نمائش نہیں ہوئی لیکن سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آنے کے بعد جام نگر کے ایک سنیما گھر میں یہ فلم دکھائی گئی ہے۔ فلم کا ہر شو’ہاؤس فل‘ جا رہا ہے اور اسے دیکھنے کے لیئے اب آس پاس کے شہروں سے بھی لوگ جام نگر پہنچ رہے ہیں۔ سنیما گھر کے باہر بڑی تعداد میں پولیس بھی تعینات رہی تاہم کسی گڑ بڑ کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
مونسوندلی ڈائری
ملا کی سیاست، اظہر کی تڑپ اور مونسون کی آمد
دلی ڈائری
انگریزی داں آٹو ڈرائیور، جسم فروشی قانونی
دلّی ڈائری بجلیدلّی ڈائری
اندھیر دلی،چوٹالہ راجہ اور شادی کا مسئلہ
دلی ڈائری
ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو ریل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد