ممبئی دھماکے، سائنسدان، گنجے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلامتی کی مصیبت ممبئی بم دھماکوں کے بعد مختلف مقامات پر بم رکھنے اور دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے کی گمنام ٹیلیفون کالوں اور ای میل پیغامات سے پولیس اور خفیہ ادارے تنگ آگئے ہیں۔ خفیہ پیغامات بھیجنے والوں نے صدر اے پی جے عبدالکلام تک کو دھمکی دے ڈالی۔ پولیس نے تنگ آکر تمام سائبر کیفے والوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے یہاں آنے والے تمام لوگوں کا ریکارڈ رکھیں اور نیٹ استمعال کرنے کی اجازت صرف انہیں دیں جن کے پاس باقاعدہ فوٹو شناختی کارڈ ہو۔ ان کا نام پتہ ، فون نمبر، اور دیگر تمام تفصیلات ایک رجسٹر میں درج کی جائیں۔ یہی نہیں بلکہ انٹرنٹ کے ذریعے وہ کس کس سائیٹ پر گئے ہیں اور کس کس سے رابطہ قائم کیا ہے، اس کا بھی ریکارڈ ’مین سرور‘ میں کم از کم چھ مہینے تک محفوظ رکھا جائے۔ جاسوسی سے افراتفری ان دنوں فوج کی تینوں شاخوں سمیت کئی خفیہ ادارے خود اپنے ہی جاسوسوں سے پریشان ہیں۔ قومی سلامتی کونسل اور ’نیوی وار روم‘ میں امریکہ کے لیئے جاسوسی کا معاملہ ابھی منظر عام پر آیا ہی تھا کہ سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ سابق کانگریس حکومت میں وزیر اعظم کے دفتر میں ایک اعلٰی اہلکار جوہری راز امریکہ کو دے رہے تھے۔
ان خبروں سے دلی کے دفاعی حلقوں میں ہل چل مچ گئی ہے۔ وزارت دفاع نے فوج کے سربراہان سے کہا ہے کہ آئندہ تقریبًا ایک برس تک امریکی فوجی وفد اور دیگر اہلکاروں کو مدعو کرنے سےگریز کیا جائے۔ اگرچہ اس کی وجہ دوسرے ممالک سے بھی روابط کو فروغ دینا بتایا گیا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے لیئے جاسوسی کے پے درپے انکشافات سے وزارت سکتے میں ہے اور حالات کو پوری طرح گرفت میں رکھنا چاہتی ہے۔ قندھار کے بعد ایودھیا سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے اپنی حالیہ کتاب ’اے کال ٹو آنر‘ میں قندھار ہائی جیک کا بڑی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اس سے کچھ تنازع بھی پیدا ہوا ہے۔ آر ایس ایس نے بھی کتاب کی ٹائمنگ پر اعتراض کیا۔ اب جسونت سنگھ نے بتایا ہے کہ وہ ایودھیا پر کتاب لکھ رہے ہیں۔ یہ کتاب دراصل رام جنم بھومی تحریک اور بابری مسجد کے انہدام پر مختلف دانشوروں کے مضامین پر مبنی ہوگی لیکن اس کا ابتدائیہ اور اختتامیہ جسونت سنگھ لکھیں گے۔ اطلاعات ہیں کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح پر بھی ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔
ہندوستانی سائنسدانوں کو پاکستان سے خطرہ انھوں نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ’تنخواہوں کے اعتبار سے سائنس ایک بہترین شعبہ ہے۔ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں اپنے سائنس دانوں کی تنخواہوں میں تین گنا سے بھی زیادہ اضافہ کیا ہے‘۔ پروفیسر راؤ نے کہا کہ آئی آئی ٹی جیسے موثر اداروں میں اپنی کارکردگی بہتر کرنی ہوگی۔ ’وہاں تین سو پچاس فیکلٹی ممبر سال میں صرف 50 پی ایچ ڈی دے پارہے ہیں۔ اگر یہی حال رہا تو جلد ہی پاکستان چین کے ساتھ سائنس کے شعبے میں ہندوستان کے لیئے ایک بڑا عالمی چیلنج بن جائے گا‘۔ ہندوستان انتہائی ناخوش ہندوستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے کم خوش رہنے والے افراد میں کیا گیا ہے۔ برطانیہ لیسٹر یونیورسٹی کے ایک عالمی جائزے میں 178ملکوں کے لوگوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس میں ہندوستان 125ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان کی حالت اس سے بھی بری ہے۔ جبکہ نیپال (119) اور بنگلہ دیش (104) اور سری لنکا کے لوگ ہندوستان اور پاکستان کے لوگوں سے زیادہ خوش رہتے ہیں۔
اس جائزے میں کئی مطالعوں سے استفادہ کیا گیا ہے اور صحت، دولت اور تعلیم کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ سب سے زیادہ خوش ڈینمارک کے لوگ ہیں دوسرے پر سوئٹزر لینڈ اور تیسرے پر آسٹریلیا ہے۔ افریقہ کا برونڈی دنیا کا سب سے دکھی ملک ہے۔ گنجوں کی یونین ایک عرصے سے گنجوں کا مذاق اڑایا جاتا رہا ہے۔ کبھی انہیں ’ٹکلا‘ کبھی گنجا، کبھی ’چٹیل‘ تو کبھی چنڈول جیسے ناموں سے پکارا گیا ہے۔ لیکن اب جھاڑ کھنڈ کے جمشید پور میں ’گنجا ایکتا یونین‘ بتائی گئی ہے۔ یونین کے صدر نے کہا ہے کہ ’کوئی بھی پیدائش سے گنجا نہیں ہوتا۔ اگر گنجوں کا کوئی مذاق اڑائے گا تو اسے عدالت تک لے جایا جائے گا‘۔ گنجوں کی یونین کا کہنا ہے کہ گنجے پن کی وجہ سے لڑکیوں سے دوستی سے لے کر شادی بیاہ اور نوکریوں تک میں تقریق برتی جاتی ہے۔ یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ دلتوں اور جسمانی طور پر معذور لوگوں کی طرز پر ملازمتوں میں گنجوں کی سیٹیں بھی مخصوص کی جائیں۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: قونصل خانے میں تاخیر12 March, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||