BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 May, 2006, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات: آئین نہ ماننے والوں سے

میر واعظ عمر فاروق
حریت کانفرنس کے بغیر دوسرے لوگوں کے ساتھ مذاکرات’فضول عمل‘ ہیں
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں علحیدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس نے آئندہ گول میز کانفرنس کے حوالے سے سخت موقف کا اظہار کیا ہے۔


مزار شہداء میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران حریت سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ حریت کانفرنس کے بغیر دوسرے لوگوں کے ساتھ مذاکرات’فضول عمل‘ ہیں۔

گول میز کانفرنس کا براہ راست حوالہ دیئے بغیر میر واعظ نے کہا کہ اگر دلی والے سنجیدہ ہیں تو بات چیت ان لوگوں کے ساتھ ہونی چاہیے جو ہندوستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے۔

حریت کانفرنس کے نصب العین کی بات کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر کاایسا حل چاہتے ہیں جو یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کے مطابق ہو۔

انہوں نے کہا ’یہاں کے عوام نے نوکریوں، سبسڈی یا اقتدار کے لیئے قربانیاں نہیں دیں۔ یہ قربانیاں صرف اور صرف آزادی کے لیئے دی گئی ہیں‘۔

انہوں نے زبردست نعرے بازی کے درمیان کہا کہ حریت ان لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتی جن کے ہاتھ بقول ان کے ’ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہیں‘۔

پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ سہ فریقی بات چیت کو بہترین ماڈل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمیں صرف وہی حل قبول ہے جس میں لوگوں کو اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کی آزادی ہو‘۔

میر واعظ، مولوی فاروق اور عبدالغنی لون کی برسی کے سلسلے میں منعقدہ اس تقریب سے دیگر حریت رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

مولانا عباس انصاری نے اپنی تقریر میں بات چیت کے ایسے طریقہ کار کو مسترد کر دیا جس میں عوام کی طرف سے بولنے کی اجازت ہندنوازوں کو ہو۔

نوجوان لیڈر بلال غنی لون نے خطاب میں کہا کہ حریت کانفرنس ہی جموں کشمیر کے عوام کی مسلمہ نمائندہ جماعت ہے۔

جلسے میں میر واعظ عمر اور دیگر رہنماؤں کے حامی آزادی کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔

اس موقع پر مقامی پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیئے تھے۔ اسٹیج اور لوگوں کے درمیان تین سو گز کا فاصلہ تھا اور جلسہ گاہ میں آنے والوں کی تلاشی کے لیئے خصوصی سکیورٹی آلات سے استعمال کیئے گئے۔

حریت کانفرنس کے ترجمان شاہدالاسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ ریاستی پولیس نے انہیں تاکید کی تھی کہ تقریب کو مختصر رکھا جائے۔ مسٹر شاہد کے مطابق پولیس کو خدشہ تھا کہ اجتماع کے دوران کوئی ناخوشگوار واقع پیش آئے گا۔

24 اور 25 مئی کو سری نگر میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ حریت کانفرنس پیر کے روز کرے گی۔ 21 مئی کے جلسے میں میر واعظ کے لب و لہجہ کے حوالے سے کئی مبصرین سمجھتے ہیں کہ حریت کانفرنس کی اس اجلاس میں شرکت کے امکانات بہت کم ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد