حریت اور منموہن: آج ملاقات ہوگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ اور علحیدگی کے حامی اعتدال پسند کشمیری رہنماؤں کے درمیان بدھ کو دہلی میں ملاقات ہو رہی ہے۔ ستمبر میں کیئے گئے مذاکرات کے دور کے بعد سے یہ منموہن سنگھ اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے ایک دھڑے کے درمیان دوسری ملاقات ہے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت پر کیئے جارہے ہیں جب دو ہی روز قبل دو مختلف حملوں میں 35 کشمیری ہندو مارے گئے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری عسکریت پسندوں پر عائد کی جارہی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ملک میں عدم استحکام پھیلانا تھا۔ 2003 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کے معاہدے کے بعد سے یہ اب تک کا سب سے بدترین واقعہ ہے۔ علیحدگی پسندوں اور حزب المجاہدین نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔
ستمبر کے مذاکرات کے بعد منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ اگر کشمیر میں عسکریت پسندانہ کارروائیوں میں کمی آئی تو بھارت وہاں تعینات اپنے فوجیوں کی تعداد کم کردے گا۔ تاہم حالیہ حملوں کے بعد بھارت نے کشمیر میں مزید فوجی تعینات کردیئے ہیں۔ کشمیر کے اہم علیحدگی پسند رہنما میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ کشمیر کا معاملہ حل کرنے کے لیئے بھارت کو اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو ان تجاویز پر غور کرنا چاہیئے جو پاکستانی صدر پرویز مشرف نے پیش کی ہیں جن میں سے ایک تجویز یہ ہے کہ بھارت ریاست جموں و کشمیر کے کچھ حصوں سے اپنے فوجی واپس بلالے۔ |
اسی بارے میں کشمیر: دو دن میں پینتیس ہندو قتل01 May, 2006 | انڈیا کشمیر پر نئ تحقیق کا مطالبہ13 December, 2005 | آس پاس کشمیر میں جھڑپیں، چھ ہلاک22 February, 2006 | آس پاس بچوں کی ہلاکت پر کشمیر میں مظاہرے23 February, 2006 | آس پاس کنٹرول لائن پر بات چیت کل ہوگی28 October, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||