کشمیر: دو دن میں پینتیس ہندو قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع ڈوڈا کے ایک گاؤں میں مبینہ علیحدگی پسندوں نے بائیس ہندو دیہاتیوں کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ اودھم پور پولیس کو دو دن میں تیرہ ہندو چرواہوں کی لاشیں ملی ہیں۔ جموں میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار بینو جوشی کے مطابق ڈوڈے میں دیہاتیوں کے قتل کا واقعہ اتوار کو رات کو پیش آیا اور اس میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں ڈوڈا کے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے ذرائع کے مطابق مبینہ علیحدگی پسندوں نے ایک گاؤں میں گھس کر بہت سے لوگوں کو یرغمال بنالیا اور اس کے بعد ان کو ایک قطار میں کھڑا کرکے گولی مار دی۔ اطلاعات کے مطابق فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شدت پسندوں کی تلاش کر رہی ہے۔ اب تک کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ یہ واردات سنہ 2003 میں انڈیا اور پاکستان میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی واردات ہے۔
آئی جی پولیس شیش پال وید کا کہنا تھا کہ یہ ایک پہلے سے طے شدہ حملہ تھا اور یہ واقعہ جموں سے ایک سو ستّر کلومیٹر دور ایک دورافتادہ گاؤں میں پیش آیا۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مبینہ علیحدگی پسندوں نے تین دیہات سے افراد کو چن کر کلہند گاؤں کے مکھیا کے گھر جمع کیا اور انہیں گولی ماد دی۔ انہوں نے کہا کہ دیہاتی قریبی فوجی کیمپ میں بھی مدد لینےکی خاطر پہنچے تاہم فوجیوں کے جائے وقوع پر پہنچنے سے قبل ہی علیحدگی پسند فرار ہو چکے تھے۔ جموں کشمیر کے چیف سیکرٹری وجے بکایا نے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس واقعے کو’قتلِ عام‘ قرار دیا ہے۔ ادھر ادھم پور کے علاقے میں کشمیر پولیس کو مزید نو ہندو چرواہوں کی لاشیں ملی ہیں۔ گزشتہ روز بھی پولیس نے چار مغوی ہندو چرواہوں کی لاشیں دریافت کی تھیں۔ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انڈین وزیرِاعظم منموہن سنگھ اور حریت رہنماؤں کی مجوزہ ملاقات سے قبل تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور بی بی سی کے نامہ نگار نودیپ دھاریوال کا کہنا ہے کہ انڈین خفیہ ایجنسیاں پہلے ہی اس خطرے کی نشاندہی کر چکی تھیں۔ |
اسی بارے میں کشمیر پر نئ تحقیق کا مطالبہ13 December, 2005 | آس پاس کشمیر میں جھڑپیں، چھ ہلاک22 February, 2006 | آس پاس بچوں کی ہلاکت پر کشمیر میں مظاہرے23 February, 2006 | آس پاس کنٹرول لائن پر بات چیت کل ہوگی28 October, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||