BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 April, 2006, 08:31 GMT 13:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ریت کی جگہ پختہ بنکر

کشمیر میں فوجی قافلے
’ ہم سکیورٹی کے معاملے میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے‘
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیئے سکیورٹی بنکروں کو نئی شکل دی جا رہی ہے تاہم وادی میں موجود علحیدگی پسند گروہوں کے خیال میں حکومت یہ سب حقیقی صورتحال کو چھپانے کی نیت سے کر رہی ہے۔

کشمیر میں 1989 میں مسلح جد و جہد کے آغاز کے ساتھ ہی ریت کی بوریوں کے سکیورٹی بنکر وجود میں آئے جس کے بعد پوری وادی ایک ’جنگ کا میدان‘ لگنے لگی۔

سولہ برس سے جاری شورش ختم تو نہیں ہوئی ہے لیکن ریاستی انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہو گئی ہے اس لیئے بنکروں کو خوبصورت بنایا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیّاح کشمیر آئیں۔

پہلے مرحلے میں سرینگر شہر میں قائم بنکروں کی شکل تبدیل کی جا رہی ہے اور پھر آہستہ آہستہ پوری وادی میں بنکروں کی شکل تبدیلی کی جائے گی۔ جموں کشمیر پولیس کا کنسٹرکشن ونگ، ریت کی بوریوں کے بنکروں کی جگہ اب پختہ اینٹوں کے چھوٹے بنکر بنا رہا ہے اور باہر سے کشمیر کی روایتی لکڑی کا استمعال کر کے انہیں ’خوبصورت‘ بنایا جا رہا ہے۔

ریاستی پولیس کے انسپکٹر جنرل کے راجندر کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی کا مقصد بنکروں کو دیکھنے میں خوبصورت بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر آنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو یہ نہ لگے کہ کشمیر جنگ کے میدان جیسا ہے۔ یہ نئے بنکر سکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ بھی ہیں‘۔

پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل فاروق احمد کے مطابق چونکہ بنکروں کو ابھی پوری طرح سے ہٹایا نہیں جا سکتا اس لیئے فی الحال انہیں نئی شکل دی جارہی ہے۔ ’ ہم سکیورٹی کے معاملے میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے‘۔

بنکر
’بنکروں کی نئی شکل دراصل کشمیر کی حقیقی صورتحال پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے‘

لیکن وادی میں سرگرم علحیدگی پسند جماعتوں کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت دنیا کو یہ دکھانا چاہتی ہے کہ کشمیر کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے کہا کہ ’اس ظاہری خوبصوتی کےعمل کے پیچھے ہندوستانی حکومت کا اصل مقصد کشمیر پر اپنا ناجائز قبضہ بر قرار رکھناہے‘۔

ریاست میں محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر جنرل محمد سلیم بیگ کا کہنا ہے کہ ’خوبصورت اور بدصورت بنکروں کا سوال ہی نہيں ہے ہماری نظر سے دیکھا جائے تو ریاست بنکروں کے بغیر اچھی جگہ ہوگی اور بنکروں کو تو ہونا ہی نہیں چاہیے تھا‘۔

سنٹرل ریزرو پولیس فورسز کے ترجمان دلیپ سنگھ امبیش کے مطابق وادی کےموجودہ بنکروں کو خوبصورت بنانے کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سیاح یہاں آئیں۔ ’نئے بنکر کم جگہ لیں گے جس سے ٹریفک بھی متاثر نہیں ہوگی‘۔

ریاست کےدانشورں کا کہنا ہے کہ بنکروں کی نئی شکل دراصل کشمیر کی حقیقی صورتحال پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے ۔یونیورسٹی آف کشمیر میں شعبہ قانون کے استاد اور بین الاقوامی قانون کے ماہر شیخ شوکت حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ قدم ریاست کی زمینی صورتحال کو چھپانے کے لیے اٹھایا جارہا ہے۔ ’جہاں تک سیاحوں کا تعلق ہے ہو سکتا ہے ان کے لیئے بنکروں کی نئی شکل خوبصورت ہو لیکن کشمیرکے عام لوگوں کو اس سے کوئی راحت نہیں ملے گی اور صورتحال جوں کی توں ہے‘۔

سرینگر کے ڈپٹی کمشنر اصغر سامون کی نظر میں بنکروں کو خوبصورت بنانا ایک نیا قدم ہے جبکہ ایک عام شہری ماجد عبداللہ کے مطابق ’یہ قدم ان نام نہاد اعتدال پسندوں اور علحیدگی پسندوں پر ایک طمانچہ ہے جو کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت نے بھی اپنے موقف میں لچک پیدا کی ہے اور جو یہ توقع کرہے تھے کہ یہ بنکر ہٹا لیئے جائیں گے‘۔

اسی بارے میں
کشمیر میں فوج کی بھرتی
07 March, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد