کشمیر: 4 نوجوانوں سمیت 10 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیرِانتظام جموں کشمیر میں فوج نے چار نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے جس کے خلاف لوگوں کی بڑی تعداد شدید احتجاج کر رہی ہے۔ اس سے پہلے فوج نے کہا تھا کہ شدت پسندوں اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔ جموں میں فوج کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بعض انتہا پسندوں کی تلاش جاری ہے۔ احتجاج کرنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے نوجوان دو مقامی ٹیموں کے درمیان ہونے والے کرکٹ میں میچ میں شریک تھے اور اس میچ کو 70 سے 80 افراد دیکھ رہے تھے۔ جب کہ فوج کا کہنا ہے کہ نوجون فوج سے مقابلے میں اس وقت مارے گئے جب وہ اس سے پہلے ہونے والی جھڑپ کے بعد انتہا پسندوں کو تلاش کر رہے تھے۔ ہندواڑہ دارالحکومت سرینگر ںے اسی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس سے پہلے فوج کے ترجمان کرنل ڈی کے بدولا نے بتایا ہے کہ ضلع ادھم پور میں ماہور کے علاقے میں بعض انتہا پسندوں کی موجودگی کا پتہ چلا تھا جس کے بعد ان کی سرکوبی کے لیے فوج اور پولیس نے مشترکہ طور پر چھاپہ مارا تھا لیکن اس کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ کرنل بدولا کے مطابق اس واقعے میں تین انتہا پسند اور ایک فوجی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جب کہ ایک فوجی شدید زخمی ہوا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ عسکریت پسندوں کی شناخت کی جا رہی ہے۔ اسی طرح کے ایک اور واقعے میں سرنکوٹ میں بھی دو انتہا پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ فوج کا کہنا ہے کا ان دونوں علاقوں میں مزید انتہا پسندوں کی موجودگي کا خدشہ ہے اوران کی گرفتار کے لیے تلاش جاری ہے۔ | اسی بارے میں سرینگر: مسلح جھڑپ، چار ہلاک14 November, 2005 | انڈیا ’دِلّی دھماکوں میں لشکر کا ہاتھ‘13 November, 2005 | انڈیا دلی دھماکے: مشتبہ شخص گرفتار 09 November, 2005 | انڈیا کشمیر میں کار بم دھماکہ، چھ ہلاک 02 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||