سرینگر: مسلح جھڑپ، چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس حکام نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے گرمائی دارالحکومت سرینگر میں شدت پسندوں اور نیم فوجی دستوں کے درمیان جھڑپ میں دو نیم فوجی اہلکاروں اور دو شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لال چوک کے علاقے میں ہونے والی اس جھڑپ میں ایک جاپانی صحافی سمیت سات عام شہری اور پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ حکام کے مطابق یہ مسلح جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب شدت پسندوں نے لال چوک کے قریب واقع نیم فوجی دستے ’سی پی آر یف‘ کے بنکر پر دستی بم سے حملہ کیا۔ سری نگر میں بی بی سی کے نمائندے الطاف حسین کے مطابق پولیس اور نیم فوجی دستوں نے لال چوک میں واقع ایک ہوٹل کا محاصرہ کیا ہوا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ شدت پسندوں کی حالیہ جائے پناہ ہے۔ ’سی پی آر یف‘ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ فی الحال فائرنگ روک دی گئی ہے اور شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن منگل کی صبح دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شدت پسند علاقے کی دو عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ ’ سی پی آر ایف‘ کے اعلیٰ افسر ایس ایس سدھو نے بتایا ہے کہ ایک شدت پسند نے جائے وقوع کے قریب واقع پیک ویو ہوٹل میں پناہ لے لی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی افواج کو یہ نہیں معلوم کہ شدت پسندنے کسی شہری کو یرغمال بنایا ہے کہ نہیں۔ ایک شدت پسندگروہ المنصورین نے لال چوک میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس گروہ کے ترجمان نے بی بی سی سری نگر کے دفتر میں فون کر کے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے گروہ کے چار افراد اس حملے میں شریک تھے۔ | اسی بارے میں سرینگر کی چھاپہ مار خواتین گرفتار02 September, 2005 | انڈیا عسکریت پسند کی مدد، ہندو گرفتار12 August, 2005 | انڈیا کانسٹیبل کے ہاتھوں افسر قتل21 July, 2005 | انڈیا سرینگر، 3 فوجیوں سمیت 4 ہلاک20 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||