عسکریت پسند کی مدد، ہندو گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع ڈوڈہ میں فوج نے ایک ہندو ڈاکٹر کو مقامی عسکریت پسندوں کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ڈاکٹر سریندر ناتھ پنڈت کو جموں کے شمال مشرق میں ایک سو ستر کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں تھاتھری میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری جمعرات کی رات عمل میں لائی گئی اور یہ پہلا موقع ہے کہ کسی کشمیری ہندو کو مسلمان عسکریت پسندوں کی مدد کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔ اعلیٰ فوجی حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج کو اطلاع ملی تھی کہ ضلع ڈوڈہ کا ڈاکٹر سریندر ناتھ پنڈت نہ صرف زخمی عسکریت پسندوں کا علاج کرتے ہیں بلکہ علاقے میں بارودی سرنگیں بچھانےمیں بھی ان کی مدد کرتے ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا تھا کہ ان اطلاعات کی بناء پر وہ ایک زخمی عسکریت پسند کا پیچھا کرتے ہوئے ڈاکٹر کے گھر تک پہنچے۔فوج کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سریندر نے زخمی اور بیمار عسکریت پسندوں کا علاج کرنے اور جموں سرینگر ہائی وے پر بارودی سرنگیں بچھانے کا اعتراف کر لیا ہے۔ گرفتار ڈاکٹر کو بعد ازاں مزید تفتیش کے لیے مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شدہ ڈاکٹر ایک حکومتی شفاخانے میں ملازم تھا۔ ڈوڈہ کے ڈی آئی جی ستیو گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ڈاکٹر پولیس کی تحویل میں ہے اور ہم اس سے تفتیش کر ہے ہیں۔ تاہم اس نے ابھی تک ایسا کچھ ظاہر نہیں کیا جس سے اس کے عسکریت پسندوں کے ساتھ روابط کا انکشاف ہوتا ہو‘۔ ڈاکٹر پنڈت کا جموں میں بھی ایک گھر ہے تاہم وہ تھاتھری کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ تھاتھری کا یہ علاقہ عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||