BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 25 March, 2006, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’منموہن کے بیان کی قدر کرتے ہیں‘

 خورشید محمود قصوری
مسئلہ کشمیر پر بھی توجہ مرکوز رہنی چاہیے: خورشید محمود قصوری
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کے اس بیان کی قدر کرتا ہے جس میں انہوں نے مختلف تنازعات کے تصفیہ کی بات کی ہے لیکن پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بھی توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔

سنیچر کے روز لاہور میں زلزلہ کے بعد دنیا کے کاروباری طبقہ کی طرف سے دی گئی امداد پر ایک کانفرنس میں خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید قصوری نے کہا کہ پاکستان بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ کے تازہ بیان کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں انہوں نے بگلیہار ڈیم اور دوسرے تنازعوں کو حل کرنے کی بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے اچھی اور مثبت باتیں کہی ہیں جن کی ہم قدر کرتے ہیں۔ خورشید قصوری نے کہا کہ پاکستان کا خیال ہے کہ بگلیہار ڈیم اور دوسرے تنازعات کا حل بھی ہو اور ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر پر بات چیت پر بھی توجہ مرکوز رہنی چاہیے۔

خورشید قصوری نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسی پیش کشیں ہوئی ہیں لیکن انہیں عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بیورکریٹک طرز فکر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے افغانستان سے اچھے تعلقات ہیں اور صدر مشرف نے جو کہنا تھا ایک بار کہہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی ہے اور چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت کئی گنا بڑھ گئی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان آئندہ تعلقات کا تعین کرے گی۔

وزیر خارجہ نے کانفرنس کو بتایا کہ پاکستان نے زلزلہ زدگان کے لیے عالمی برادری سے تقریباً سوا پانچ ارب ڈالر کی مدد مانگی تھی لیکن اس توقعات سے بڑھ کر تقریبا ساڑھے چھ ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت اس بات پر غور کررہی ہے کہ بیرون ممالک ملک کے سفارت خانوں میں ثقافتی اور تجارتی قونصلر مقرر کیے جائیں جو دنیا میں پاکستان کا ایک سوفٹ امیج پیش کریں۔

اسی بارے میں
’مسئلے کا حل ہمارے عہد میں‘
10 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد