’من موہن کی تقریر مثبت ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی جانب سے پیش کردہ ’امن معاہدے‘ کی تجاویز کو پاکستان نے مثبت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے بیان سے لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر اور دیگر معاملات پر پیش رفت کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ’ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی وزیراعظم کی تقریر مثبت جذبات کی عکاس ہے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات پر پیش رفت کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ہے‘۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے امرتسر بس سروس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سے دوستی اور ’امن معاہدے‘ کی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کے عملی حل کے لیے تیار ہیں تاکہ خطے سے غربت کا خاتمہ کیا جاسکے۔ ان کی تقریر پر پاکستان نے اپنے فوری تبصرے میں اسے مثبت قرار دیا ہے اور کہا کہ پاکستان تو شروع سے ہی کہہ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی اس خطے کے مکمل وسائل بروئے کار لاتے ہوئے غربت، بیماریاں اور جہالت ختم کی جاسکتی ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ’ہم پاکستان کو اس خطے کی ترقی کا ایک مرکز سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایران اور وسطی ایشیا سےگیس پائپ لائن کی خاطر اپنا علاقہ پیش کیا ہے‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں طویل عرصے سے خرابی، بداعتمادی اور کشیدگی کا بنیادی سبب مسئلہ کشمیر ہے اور اس کے حل کے لیے اعتمادی سازی کے اقدامات کیے جانے چاہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت کو تنازعات کے حل کے لیے دلیرانہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کے بقول ماضی کی اساس پر قابو پانے کے لیے لچک اور سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں بھارتی الزامات بے بنیاد ہیں: پاکستان20 March, 2006 | پاکستان ’کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دیں‘12 March, 2006 | پاکستان مشرف فارمولہ: نئی بحث کا آغاز26 October, 2004 | پاکستان مشرف کا کشمیر کے لیے ایک فارمولہ25 October, 2004 | پاکستان ’بھارت سے کھُلے ذہن سے بات ہوگی‘20 September, 2004 | پاکستان نیویارک میں ملیں گے13 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||