BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 March, 2006, 12:32 GMT 17:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دیں‘

اسلام آباد
لوگوں کے درمیان رابطے سے حکومتوں پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے
پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پچاس سے زائد سیاست دانوں اور رہنماؤں نےاسلام آباد میں کشمیر کے مسئلے پر ہونے والی کانفرنس کے بعد کہا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں کشمیر کے حل کی طرف پیش رفت میں کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دیں۔

اس کانفرنس میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کے ملاپ کے لیئے مزید راستے کھولنے، تجارت شروع کرنے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کی گئی۔

کشمیر کانفرنس کا انعقاد ایک بین الاقوامی غیر سرکاری ادارے پگواش نے کرایا تھا جس کا مقصد لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کے کشمیری رہنماؤں کو ساتھ بٹھا کر کشمیر کے بارے میں ایک متفقہ موقف اپنانا تھا۔

اس دو روزہ کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کو مدعو نہیں کیا گیا تاکہ شرکاء کشمیر پر کھل کر اپنے اپنے موقف بیان کریں۔ اس کانفرنس کے بعد آج ایک متفقہ اعلامیہ جاری کیا جانا تھا جو بوجوہ جاری نہیں کیا گیا۔

اس کانفرنس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے حریت کانفرنس کے رہنما یاسین ملک، عبدالغنی بھٹ اور سجاد لون جبکہ سابقہ بھارتی وزیر مملکت اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ عمر عبداللہ اور بھارت کی کمیونسٹ مارکسسٹ جماعت کے نمائندے بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔

پاکستان کی جانب سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم، مسلم کانفرنس اور حریت کانفرنس پاکستان چیپٹر کے ارکان بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔

اس کانفرنس میں کیا ہوا؟ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی جماعت مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق نے بی بی سی کو بتایاکہ اس کانفرنس میں کشمیریوں کے درمیان بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل تجویز کیا جائے۔

اس کانفرنس میں کشمیر پر مختلف آراء رکھنے والے لوگ شامل ہیں جن میں سے کچھ کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہیں تو کچھ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کی۔ ان تمام لوگوں کا ایک جگہ بیٹھ کر بات کرنا ہی کشمیر کے مسئلے پر جاری اس کانفرنس کو سابقہ کانفرسوں سے ممتاز کرتا ہے ۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ پہلی بار پاکستان آئے ہیں۔ انہوں نے آج اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے میں بات کرتے ہوئے کہاپاکستان اور بھارت اس مسئلے کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل میں اس وقت تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی جب تک کشمیریوں کو مذاکرات میں مرکزی حیثیت حاصل نہ ہو۔

گو اس کانفرنس کو پاکستانی یا بھارت کی حکومتوں کی سرپرستی حاصل نہیں ہے تاہم اس طرح کی بات چیت کو عموماً ’ٹریک ٹو‘ کا نام دیا جاتا ہے جس میں سرحد کے دونوں جانب کے لوگ مل کر کسی مسئلے پر بات کر کے پاکستان اور بھارت کی حکومتوں پر زور ڈالتے ہیں کہ وہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب رہنے والے کشمیریوں سے ان کے مستقبل کے بارے میں کیئے گئے فیصلوں کو اہمیت دیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ اٹھاون سال سے کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے اور اس پر دونوں ممالک کے درمیان تین جنگیں بھی ہوئی ہیں۔ تاہم یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو پایا ہے۔

پاکستان اور بھارت نے گزشتہ دو برسوں میں کشمیر میں آمد ورفت کے کئی راستے کھولے ہیں۔ اسلام آباد میں ہونی والی اس کانفرنس کے شرکا نے جمعے کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی تھی۔

اسی بارے میں
کشمیر:’امریکہ مدد کرے‘
13 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد