باپ بیٹی کی سولہ برس بعد ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیرکی بیٹی صرف دو ماہ کی تھی کہ باپ سے جدا ہوئی اور سولہ سال تک باپ بیٹی کے درمیان ہندوستان اور پاکستان کی سیاست حائل رہی لیکن دونوں ممالک کے درمیان امن کے عمل نے باپ بیٹی کے ملاقات کو ممکن بنا دیا۔ سولہ سالہ ناہید اختر صرف دو ماہ کی تھیں کہ جب سن انیس سو نوے میں ان کے والد فرید احمد بٹ انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر سے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لائن آف کنٹرول کے اس پار انڈین حکمرانی کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز ہو چکا تھا۔ ناہید کوئی چھ سال کی تھیں کہ ان کو والدہ سے یہ معلوم ہوا کہ ان کے والد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہیں اور شاید وہ کھبی واپس نہ آسکیں ۔ باپ اور بیٹی نے ایک دوسرے کی آواز پہلی مرتبہ سن دوہزار میں سنی جب ان کا ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان خطوط اور تصویروں کا تبادلہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی باپ بیٹی کی آپس میں ملنے کی تڑپ بڑھ گئی لیکن دونوں کے درمیان ہندوستان اور پاکستان کی سیاست حائل رہی ۔ دونوں ممالک کے درمیان امن کے عمل کے باعث باپ اور بیٹی کا ملاپ ممکن ہوا اور فروری کے وسط میں ناہید اختر کی اپنے والد سے اس وقت ملاقات ہوئی جب وہ ویزے پر اپنے نانی کے ہمراہ پاکستان آئیں۔ ناہید کہتی ہیں ’میں نے جب پہلی بار اپنے والد کو لاہور میں دیکھا میں ان کو پہچان نہ سکی‘۔ وہ کہتی ہیں کہ’میرے والد نے مجھے تھپکی دی اور گلے لگایا تو میں اپنے آنسوؤں کو قابو میں نہ رکھ سکی‘۔ ناہید کہتی ہیں کہ’مجھے پھر بھی یہ یقین نہیں تھا کہ یہ میرے والد ہیں۔ جب میرے والد ایک طرف مڑے تو میں نے نانی سے پوچھا کیا یہی میرے ابو جی ہیں تو انھوں نے کہا کہ ہاں یہی تمھارے ابو جی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ’میں اپنے والد سے ناراض ہوں کیوں کہ انھوں نے ماں بیٹی کو اکیلا چھوڑ دیا۔اس دوران ہمارے عزیز مدد کرتے رہے لیکن بعض اوقات کسی عید پر نئے کپڑے ہوتے اور کھبی نہیں ہوتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں آج تک اپنے باپ کی شفقت اور پیار سے محروم رہی۔جب مجھے باپ کی شفتت اور پیار کی ضرورت تھی اس وقت وہ وہاں تھے ہی نہیں۔ میری اب یہ تمنا ہے کہ ہم سب میں اور میرے والدین ہم سب ایک ہی جگہ ایک ساتھ رہیں‘۔ ناہید کے والد فرید احمد بٹ اپنے بیٹی کو پاس دیکھ کر بہت خوش ہیں اور وہ زیادہ سے زیادہ وقت اپنی بیٹی کے ساتھ گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرید احمد کہتے ہیں کہ’میں اپنی بیٹی کو اپنے پاس دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ ہم ناشتہ ایک ساتھ کرتے ہیں، کھانا اکھٹے بیٹھ کر کھاتے ہیں۔میری بیٹی کچن میں جاتی ہے تو میں بھی اس کی مدد کے لیئے کچن میں جاتا ہوں وہ چاہتی کہ وہ کام کرے میں چاہتا ہوں کہ میں کام کروں کیوں کہ میرے لیئے تو اب بھی وہ دو ماہ کی ہے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ’ہم نے بہت ساری باتیں کیں اور میری بیٹی نے گلے شکوے کیے ہیں کہ میں ان کو اکیلا چھوڑ کر آیا۔ میں نے اپنی مجبوریاں بتائیں لیکن میری بیٹی اب بھی مجھ سے ناراض ہے۔ میں اس کو اپنے پاس بلاتا ہوں لیکن وہ دور دور رہتی ہے‘۔ فرید احمد بٹ کا کہنا ہے کہ’مجھے یہ افسوس ہے کہ میری بیٹی ایک باپ کے پیار ، محبت اور شفقت سے محروم رہی اور میں اب کوشش کرتا ہوں لیکن گزرا ہوا وقت واپس نہیں آسکتا۔ پندرہ سال بعد اپنی بیٹی سے میری ملاقات ہوئی اور میرا دل نہیں چاہتا کہ میں ان کو اپنے سے اب دور کروں اور اور یہی صورت حال اس کی ماں کی ہے اور میری خواہش ہے کہ میری بیوی بھی ادھر آجائے اور ہم سب ایک ساتھ رہیں لیکن میری بیوی کو بھارتی حکام نے پاسپورٹ جاری نہیں کیا اور نہ ہی ان کو مظفرآباد سرینگر بس سروس پر سفر کرنے کی اجازت ملی ہے۔ یہ سمجھ نہیں آتا کہ آدھے لوگوں کو ملنے کی اجازت دی جاتی ہے اور آدھے لوگوں کو نہیں‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں تذبذب میں ہوں کہ کیا کروں؟، میری بیٹی کو میری ضرورت ہے اور وہ کہتی ہے کہ ہم یا تو سب ایک ساتھ رہیں اور اگر ایسا ممکن نہیں تو دوسری صورت میں وہ والدہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے ماں نے اس کے لیئے آج تک بہت مشکلات اٹھائی ہیں۔ ہماری اب ایک ہی خواہش ہے کہ ہم سب ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں کشمیریوں کو کلچے مل گئے30 November, 2005 | پاکستان ’میرے لئے ایک حج سے کم نہیں‘22 November, 2005 | پاکستان کچھ کشمیری ایل او سی پار کریں گے17 November, 2005 | پاکستان ایل اوسی کھل گئی، کشمیری اب تک منتظر 14 November, 2005 | پاکستان ’ماں باپ کے مرنے کے بعد سب سے اچھی خبر‘30 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||