خودمختاری آئین کے اندر ہی: منموہن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ گول میز کانفرنس میں کئی جماعتوں نے کشمیر کی خود مختاری پر زور دیا ہے لیکن اس بارے میں بعض اختلافات ہیں جنہیں آئین کے دائرے میں حل کرنے کی ضرورت ہے۔گول میز کانفرنس میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ جموں کشمیر کو منقسم نہیں کیا جائےگا۔ راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کے اختتام پر کشمیر مسئلے پر بھارت کے مذاکرات کار این این وورا نے بتایا کہ خود مختاری کے بارے میں بعض جماعتوں نے آئين کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن اخلافات کے سبب ’ کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے بات چیت ضروری ہے۔‘ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بات چیت میں ایک متفقہ رائے یہ آئی ہے کشمیر کی سرحدوں کو جوں کا توں برقرار رکھا جائے۔ اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں این این وورا نے کہا کہ کسی جانب سے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا کوئی مطالبہ نہیں آیا۔ ’بعض لوگوں نے لداخ کو مرکز کے زیر انتظام لانے کی بات ضرور کہی لیکن سب اس سے متفق تھے کہ کشمیر کی سرحدوں کی ازسر نو حد بندی نہیں ہونی چاہیے۔‘ وزیراعظم کے بیان کے مطابق لوگوں نےاس بات سے اتفاق ظاہر کیاکہ پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھے جائیں اور کشمیر کے دونوں جانب کے لوگوں میں عوامی رابطے پر زور دیاجائے اور کشمیر کے دونوں حصوں میں آپسی تجارت بھی شروع کی جائے۔ وزیراعظم کے بیان کے مطابق لوگوں نے وادی میں انسانی حقوق پر تشویش ظاہر کی ہے اور اس پر خاص توجہ دی جائیگی۔ اس سلسلے میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بات کہی گئی ہے جو قیدیوں کی رہائي پر غور و فکر کریگی۔ وزیر اعظم نے کھنڈوارہ میں معصوم بچوں کی ہلاکت پر بھی افسوس ظاہر کیا ہے۔ گول میز کانفرنس کے اختتام پر وزیر اعظم کی جانب سے ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ کشمیر مسئلے کے حل کے لیے گول میز کانفرنس کی یہ محض ابتدا ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہےگا۔ آئندہ گول میز کانفرنس مئی کے مہینے میں سری نگر میں طے کی گئی ہے اور حکومت اس میں پھر سبھی کو بات چیت کے لیے دعوت دیگی۔ اس کانفرنس کا کشمیر کے تمام علیحدگی پسند رہنماؤں نے بائیکاٹ کیا ہے۔ کانفرنس کے اختتام پر نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت کو دراصل بات چیت انہیں علحیدگی پسندوں سے کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا: ’مسئلہ کشمیر کسی اقتصادی پیکیج سے حل نہیں ہوگا بلکہ اسکا سیا سی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔‘ | اسی بارے میں دلی میں گول میز مذاکرات شروع25 February, 2006 | انڈیا کشمیر: راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کی دعوت 15 February, 2006 | انڈیا ’مذاکرات کیلیےمناسب وقت نہیں‘20 February, 2006 | انڈیا میر واعظ پہلی بار جموں میں02 February, 2006 | انڈیا دراندازی میں کمی ہوئی ہے: بھارت21 February, 2006 | انڈیا کشمیر: 4 نوجوانوں سمیت 10 ہلاک22 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||