دلی میں گول میز مذاکرات شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی وزیر اعظم منموہن سنگھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مختلف جماعتوں کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل بات چیت کر رہے ہیں تاہم جموں کشمیر کی تقریباً تمام علیحدگی پسند جماعتوں نے اس راؤنڈ ٹیبل بات چيت کا بائیکاٹ کیا ہے۔ گول میز کانفرنس کا مقصد مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سبھی جماعتوں سے صلاح مشورہ کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اسکے بارے میں کوئی فیصلہ کرتے وقت سب کی رائے کا خیال رکھا جا سکے۔ اس کانفرنس کی صدارت وزیر اعظم کر رہے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے وزیر داخلہ شیو راج پاٹل، قومی سلامتی کے مشیر این کے نارائن اور امور کشمیر کے ماہر این کے ووہرا بات چیت کرینگے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی ہاشم قریشی کے علاوہ اس گول میز کانفرنس میں کوئی بھی علحیدگی پسند رہمنا شامل نہیں ہے۔ حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ چونکہ کشمیر کے مسئلے پر بھارت پاکستان اور کشمیری رہنماؤں کی درمیان سہ فریقی بات چیت ہو رہی ہے اس لیے اس طرح کی گول میز کانفرنس درست نہیں ہے۔ یہ گول میز کانفرنس دارلحکومت دلی میں وزیراعظم منموہن سنگھ کی رہائش گاہ پر ہو رہی ہے۔ اس میں نیشنل کانفرنس، ٹی ڈی پی ، پنتھر پارٹی، ٹی ڈی ایف، کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی قومی دھارے میں شامل جماعتوں کے لیڈر حصہ لے رہے ہیں۔ بات چیت میں جموں اور لداخ کے علاقے کے بعض علاقائی رہنما، یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور دانشور بھی شرکت کرہے ہیں۔ کشمیر کے سابق وزیر اعلٰی فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اس راؤنڈ ٹیبل بات چیت سے کوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا ہے اور یہ سب وقت کا ضیاع ہے اس لیے وہ اس میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ لیکن انکے بیٹے عمر عبداللہ وزیر اعظم کے گھر پہنچے ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں کشمیر: 4 نوجوانوں سمیت 10 ہلاک22 February, 2006 | انڈیا دراندازی میں کمی ہوئی ہے: بھارت21 February, 2006 | انڈیا کشمیر: راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کی دعوت 15 February, 2006 | انڈیا لیہ: بدھ مت، مسلم کشیدگی09 February, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||