BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 February, 2006, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کی دعوت

وزیراعظم منموہن
ابھی تک اس بات چیت کے لیے کسی کو دعوت نہیں بھیجی گئی ہے
بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ بعض علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں سے الگ الگ بات چیت کے بعد اب ایک راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کے لیے کشمیری رہنماؤں کو دعوت دینے والے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ راؤنڈ ٹیبل بات چیت چوبیس فروری کو دلی میں ہوگی اور اس میں حریت دھڑے کے میر واعظ عمر فاروق، پیپیلز ڈیموکریٹک پارٹی کے شبیر شاہ، پیپلز کانفرنس کے سجاد لون ، جے کے ایل ایف کے یٰسین ملک کے علاوہ بھارت نواز تنظیموں اور جماعتوں کے رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی جائیگی۔ مجموعی طور پر پچاس رہنماؤں کی فہرست تیار کی گئی ہے۔

وادی میں علیحدگی پسندی کی تحریک کے آغاز کے بعد سے اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس ہوگی اور اس میں کشمیر کے کسی ممکنہ حل پر ان رہنماؤں کے خیالات کا تجزیہ کیا جائےگا۔

ابھی تک اس بات چیت کے لیے کسی کو دعوت نہیں بھیجی گئی ہے۔

حریت کانفرنس کے رہنما مولوی عمر فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کے لیے ’سنجیدہ اور اور بامعنی مذاکرات‘ کیے جانے چاہیں۔ کسی طرح کی بات چیت میں سبھی فریقوں کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صرف انتخابات اور اقتصادی پیکیج کے اعلان سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔ اس مسئلے کو اور زیادہ الجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مسئلہ کا کوئی حل ڈھونڈنا ہوگا‘۔

دوسری جانب سخت گیر دھڑے کے رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کہا کہ ’اس طرح کے مذاکرات سے کچھ حل نہیں ہوگا۔ دو برس سے ہندوستان اور پاکستان بات چیت کررہے ہیں۔ اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ کشمیر کے نام نہاد رہنماؤں سے بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہوگی ‘۔

گیلانی کا کہنا ہے کہ شورش زدہ جموں کشمیر میں زمینی حقائیق میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگر حکومت مسئلہ کے حل کے لیے سنجیدہ ہے تو وہ پہلے عملی طور پر قدم اٹھائے۔

جے کے ایل ایف کے رہنما یٰسین ملک جمعہ کو وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملنے والے ہیں۔

یٰسین ملک نے کہا کہ اب تک کی بات چیت میں اور اسکا عمل بھارت اور پاکستان تک محدود رہا ہے اور کشمیری اب ذلت محسوس کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’میں ڈائیلاگ کرنے نہیں جارہا ہوں میں یہ بتانے جارہا ہوں کہ کہ بات چیت اور فیصلے کے عمل میں کشمیریوں کو بھی شامل کیا جائے اور اس عمل میں کشمیر کی نظریاتی اور شدت پسند تنظیموں کو بھی پوری طرح شامل کیا جائے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد