شدت پسندانتخابات سے آئیں: منموہن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزيراعظم منموہن سنگھ نے نکسل وادیوں، ماؤنوازوں اور ملک میں کئی علاقوں میں سرگرم شدت پسندوں سے کہا ہے کہ انہیں ہتھیاروں کی مدد سے نہیں بلکہ انتخابات میں لڑ کر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کمیونسٹ پارٹی کے ایک اخبار ’پرجا شکتی‘ کی جانب سے کرائے گئے ’پریس اور ملک‘ نامی قومی سمینار کے دوران جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے دورے پر گئے وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی مہذب معاشرہ بے قصور کی ہلاکت برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ ’جمہوری ملک میں لوگوں کو ووٹوں کی مدد سے اپنے ساتھ کیا جا سکتا ہے نہ کہ بندوق کی گولیوں سے‘۔ اپنے بیان میں انہوں نے کشمیر میں علحیدگی پسندوں، شمال مشرقی ہندوستان اور آندھرا پردیش میں سرگرم ماؤنواز تحریک سے یہ التجا کی کہ وہ عام انسان کے درمیان جائيں اور ان کے سامنے اپنا نظریہ رکھیں اور پھر ان سے ووٹ دینے کا مطالبہ کریں۔ مسٹر سنگھ نے مزید کہا کہ بات چیت سے کسی بھی مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ وزيراعظم منموہن سنگھ نے ایک لوک گلوکار اور باغیوں کے ہمدرد ’غدر‘ کے نغموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بے قصور کو مار کر کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی گروپ عوام کے حق کی بات کرتا ہے تو اسے اپنی مقبولیت کی جانچ ’پولنگ بوتھ‘ پر کرنی چاہئے۔ وزیرآعظم کا بیان ایک اسے موقع پر آیا ہے جب گزشتہ دنوں آندھراپردیش کی ریاستی حکومت نے نکسلیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندی عائد کرنے کے دو روز بعد ہی نکسل وادیوں نے 10 لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک پارلیمانی رکن بھی شامل تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||