BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 August, 2005, 16:18 GMT 21:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکھوں سے منموہن سنگھ کی معافی
بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ
’ انکوائری رپورٹ کو سیاسی رنگ نہ دیں‘
بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے پارلیمان میں سکھ برادری سے 1984 کے فسادات پر معافی مانگی ہے۔

بھارت کی سابق وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے اپنے سکھ محافظ کے ہاتھوں قتل کے بعد ہونے والے ان فسادات میں تین ہزار سکھ مارے گئے تھے۔

بھارتی وزیرِاعظم نے کہا کہ’ جو کچھ ہوا اس پر میرا سر شرم سے جھک گیا ہے‘۔ منموہن سنگھ نے بھارتی پارلیمان سے خطاب میں کہا کہ ’ 1984 میں جو ہوا وہ ہمارے آئین کی نفی تھا اور میں اپنے ملک کی طرف سے جو کچھ ہوا اس پر شرمندہ ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم گزرے ہوئے واقعات نہیں بدل سکتے مگر ایک بہتر مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں‘۔

منموہن سنگھ نے ممبران پارلیمان پر زور دیا کہ وہ اس انکوائری رپورٹ کو سیاسی رنگ نہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمیں نہ ہی فحش زبان استعمال کرنی چاہیے اور نہ ہی اسے ایسا کوئی رنگ دینا چاہیے جس سے ملکی اتحاد اور وقار کے دشمنوں کو فائدہ ہو۔ اگر ہم ایسا کریں گے تو یہ نہ ہی سکھ برادری کی خدمت ہو گی اور نہ ہی ملک کی‘۔

انہوں نے یہ معافی اس حکومتی انکوائری کے بعد مانگی ہے جس میں کانگریس پارٹی کے اس وقت کے رہنماؤں پر ان فسادات کو ہوا دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جی ٹی ناناوتی کی جانب سے کی گئی انکوائری کی 339 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیر کو بھارتی پارلیمان میں پیش کی گئی تھی۔

ناناوتی کمیشن سنہ 2000 میں بی جے پی نے تشکیل دیا تھا اور یہ ان فسادات کی انکوائری کے لیے بنایا جانے والا نواں کمیشن تھا۔

اس کمیشن کی رپورٹ میں اس وقت کے مقامی کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں کو ان فسادات کو ہوا دینے کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کمیشن نے سمندر پار بھارتیوں کے موجودہ وزیر جگدیش ٹیٹلر کے خلاف فسادات بھڑکانے میں ملوث ہونے کی قابلِ اعتبار شہادت ملنے کا انکشاف کیا تھا اور ان کے اس کردار کی مزید تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔

اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد جگدیش ٹیٹلر نے بدھ کواستعفٰی دے دیا جسے آج بھارتی وزیرِاعظم نے قبول کر لیا۔ اس کے علاوہ ایک اور کانگریسی سیاستدان سجن کمار بھی اس رپورٹ میں اپنا نام آنے پر ترقیاتی بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے مستعٰفی ہو چکے ہیں۔

علاوہ ازیں ان فسادات میں مارے جانے والے افراد میں سے کچھ کی بیواؤں نے دلی کی سڑکوں پر احتجاج کیا اور منموہن سنگھ کے استعفٰی کا مطالبہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد