’مذہبی فسادات سیاستدانوں کا کام‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں ایک حکومتی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انیس سو چوراسی میں سکھوں کے خلاف فسادات کے پیچھے کانگریس پارٹی کے کچھ رہنماؤں کا ہاتھ تھا۔ بھارت میں سکھوں کے خلاف فساد اکتیس اکتوبر انیس سو چوراسی کو بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد شروع ہوئے تھے۔ تحقیق کا آغاز سن دو ہزار میں ہوا تھا۔ اس سے پہلے بھی تحقیقات ہوئی تھیں لیکن سکھوں نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ اس تازہ ترین رپورٹ میں پولیس پر بھی سخت تنقید کی گئی ہے۔ تین سو انتالیس صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ سپریم کورٹ کے سابق جج جی ٹی ناناوتی نے تیار کی ہے اور اسے پیر کے روز بھارتی پارلیمان میں پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مقامی کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں نے یا تو لوگوں کو دنگوں پر اکسایا تھا یا ان کی مدد کی تھی‘۔ اس سلسلے میں رپورٹ میں سابق وفاقی وزیر جگدیش ٹائٹلر کے دنگوں میں ممکنہ کردار کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔ کانگریس پارٹی کے رہنماء دھرم داس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف ٹھوس ثبوت ملے ہیں کہ انہوں نے سکھ آبادی والے ایک علاقے پر حملہ کروایا تھا۔ رپورٹ میں ٹائٹلر کے بارے میں مزید تحقیق کی درخواست کی گئی ہے۔ تاہم حکومت کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹائٹلر کے کردار کے بارے میں رپورٹ میں وثوق سے کچھ نہیں کہا گیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کانگریس کے رہنما سجن کمار کے خلاف کچھ مقدمات کا جائزہ لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ سجن کمار اس سے پہلے اسی نوعیت کے الزامات میں شواہد نہ ہونے کی بنا پر ایک سیشن کورٹ سے بری ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے لوگوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا اور لا تعلق رہی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||