سکھ لواحقین کے لیے معاوضہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست پنجاب میں پولیس نے انیس سو اسّی اور نوّے کی دہائی میں علیحدگی پسند سکھوں کے خلاف کارروائی کے دوران ان کی حراست میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو ہرجانہ ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ چندی گڑھ میں پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایک سو نو خاندانوں میں اڑھائی لاکھ روپے فی خاندان تقسیم کیے جائیں گے۔ پولیس نے یہ فیصلہ بھارت میں انسانی حقوق کے قومی کمیشن کے حکم پر کیا ہے۔ کمیشن نے یہ حکم پولیس کی طرف سے بارہ لاشیں جلائے جانے کے بارے میں ایک مشہور کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔پولیس نے امرتسر میں ان لاشوں کو لاوارث قرار دیا تھا۔ تحقیق کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ مذکورہ لاشیں ان افراد کی ہیں جن کو علیحدگی پسند تحریک میں شامل ہونے کے شبہہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بھارت کی سپریم کورٹ میں ایک درخواست میں کہا گیا تھا کہ پنجاب میں پولیس نے ہزاروں افراد کو گولی مارنے کے بعد جلا دیا تھا۔ بھارت میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک عرصے سے ان ہلاکتوں کے ذمہ دار پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||