آپریشن بلوسٹار کی تحقیقات کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کے روز سکھوں نے بیس برس قبل امرتسر میں قائم سکھوں کی عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کی کارروائی کی یاد منائی۔ اس موقع پر گولڈن ٹیمپل میں خصوصی دعائیہ تقریب میں سکھوں کے اعلی ترین مذہبی پیشوا یا جتھہ دار گیانی جوگندر سنگھ ویدانتی نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی پارلیمان نے بیس برس گزرنے کے باوجود سکھوں کے خلاف کی گئی اس سنگین کارروائی کی مذمت نہیں کی ہے۔ برطانیہ میں بھی کئی مقامات پر سکھوں نے انیس سو چراسی میں کی جانے والی اس فوجی کارروائی کی مذمت میں تقاریب منعقد کیں۔ بیس سال پہلے انڈیا کی فوج نےگولڈن ٹیمپل پر، جو سکھ مذہب میں سب سے زیادہ مقدس مقام ہے، مبینہ طور پر مسلح علیحدگی پسند سکھوں کا خاتمہ کرنے کے لئے حملہ کیا تھا۔ برطانیہ میں رہنے والی سکھ آبادی کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی اقوام متحدہ سے آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔ انیس سو چراسی میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے آپریشن بلو سٹار کی ذاتی طور پر منظوری دی تھی جس کا مقصد وہاں پناہ لئے ہوئے ایسے مسلح سکھوں کا خاتمہ تھا جو پنجاب کی آزادی کا مطالبہ کررہے تھے۔ انڈین آرمی آپریشن بلو سٹار کے ذریعے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن انڈیا کی ریاست کو اس کی بہت بھاری قیمت دینا پڑی تھی۔ اگرچہ کسی بھی آزاد ذریعہ سے یہ تعین نہیں کیا جا سکا کہ اس آپریشن میں کتنے افراد ہلاک ہوئے لیکن سکھ حلقے یہ تعداد ہزاروں میں بتاتے ہیں۔ اس واقعے کے بعدوزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے سکھ باڈی گارڈ نے ہلاک کردیا تھا جس کے بعد سکھ مخالف فسادات میں تقریباً تین ہزار سکھ ہلاک ہوگئے تھے۔ انڈیا میں حالیہ الیکشن میں نئے وزیراعظم من موہن سنگھ سے اب برطانوی سکھ آبادی کو امیدیں ہیں کہ وہ ماضی کو دوبارہ سے کھول کر اس واقعے کی آزادانہ طور پر تحقیقات کروائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||