تلخ یادیں مگر اچھی امیدیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے علاقے ساؤتھ ہال میں رہائش پذیر سکھوں نے مشترکہ طور پر کہا ہے کہ ’ہمیں اس بات پر نہایت خوشی ہے کہ من موہن سنگھ کو بھارت کا نیا وزیرِ اعظم نامزد کیا گیا ہے‘۔ بیس سال پہلے بھارت کی رہنما اندرا گاندھی نے آرمی کمانڈوز کو انتہا پسند ہندوؤں کے خلاف سکھوں کے مقدس مقام ’گولڈن ٹیمپل‘ میں آپریشن کے لیے بھیجا تھا جس سے مبصرین کے نزدیک ہندوؤں اور سکھوں میں کسی حد تک فاصلے بڑھ گئے۔ لیکن اس بات پر سکھ بہت خوش ہیں کہ اندرا گاندھی کی بہو سونیا گاندھی نے من موہن سنگھ کو نیا وزیرِاعظم بنوایا ہے۔ تاہم ایک مقامی ریڈیو براڈکاسٹر اجیت سنگھ نے کہا کہ ’ہمیں اس خبر سے بہت زیادہ خوش نہیں ہونا چاہیے کہ ایک پگڑی والا وزیرِاعظم کے عہدے پر نامزد کیا گیا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم چاہیں گے کہ من موہن سنگھ انیس سو اسی کے عشرے میں سکھوں کے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات دوبارہ شروع کروائیں‘۔ اجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک میں زیادہ تر رہائش پزیر سکھ بھارت کے شمالی صوبہ پنجاب کی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انیس سو چوراسی میں ’گولڈن ٹیمپل‘ کے حوالے سے ہونے والے خون خرابے اور ہزاروں سکھوں کی ہلاکتیں واقع ہوئی تھیں جس کے بعد اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے ہلاک کردیا تھا۔ بہّتر سالہ ساؤتھ ہال میں رام گڑھیا سبھا سکھ مندر کے بانی مہر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’سکھ اندرا گاندھی کو کبھی معاف نہیں کریں گے‘۔ ساؤتھ ہال کے پنجاب ریڈیو سٹیشن اور مشنری جسویر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’بھارتی انتخابات کے حیرت انگیز نتائج کے بعد من موہن سنگھ وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے بہترین شخص ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ نئے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ باریک بینی سے سکھ قوم کے بھروسے کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام معاملات کو سلجھانے کی کوشش کریں گے۔ من موہن سنگھ جو پچھلی دہائی میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے کام کرتے تھے، انہوں نے ملک کے معاشی حالات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ انیس سو چوراسی میں ہونے والے تنازعات کی تلخ یادیں فراموش نہیں کی جا سکتیں لیکن اب سکھ قوم مستقبل کی طرف دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ہم پہلے ہندوستانی ہیں اس کے بعد سکھ اور پھر پنجابی ہیں۔اس کے برخلاف بھارت میں ہم پہلے سکھ پھر پنجابی اور سب سے آخر میں ہندوستانی تصور کیے جاتے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||