گُرچرن سنگھ توڑا کا انتقال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سکھوں کی اہم تنظیم شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی کے صدر اور شرومنی اکالی دل کے اعلیٰ رہنما گرچرن سنگھ توڑا کا بدھ کو انتقال ہو گیا۔ وہ اناسی برس کے تھے۔وہ پچھلے دو سال سے بیمار تھے انہیں پچیس مارچ کو دل کا دورہ پڑا تھا اور ان کا دلی میں علاج چل رہا تھا۔ جمعرات کی صبح انہیں دوبارہ دل کا دورہ پڑا جسکی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔ تقریباً چھہ دہایوں تک اکالی سیاست میں اہم رول ادا کرنے والے گرچرن سنگھ توڑا تقریباً چھبیس سال تک کمیٹی کے صدر رہے۔ طویل سیاسی کیریر میں وہ پانچ بار بھارت کے ایوان بالا راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔ ان کی پیدائش پٹیالہ کے توڑا گاؤں میں ایک کسان گھرانےمیں ستمبر انیس سو چوبیس میں ہوئی۔ اہم عہدوں پر رہنے کے باوجود ان کا شمار ایسے چند رہنماؤں میں ہوتا ہے جو اپنی سادگی کے لئے مشہور ہیں۔ وہ نوجوانی سے ہی اکالی سیاست میں سرگرم ہو گئے تھے۔انیس سو سینتالیس میں وہ پٹیالہ میں اکالی دل کے سیکرٹری منتخب ہوئے۔ گرچرن سنگھ انیس سو پچپن اور انیس ساٹھ میں بھارتی پنجاب کی زبان کی بنیاد پر تنظیم نو کی مہم چلانے پر دو بار گرفتار ہوئے۔ مبصرین کے مطابق اکالی سیاست میں مذہب اور سیاست کے درمیان بڑا باریک فرق ہوتا اور اس توازن کو برقرار رکھنا بہت ذہانت کا کام ہے جو گرچرن سنگھ نے احسن طریقے سے نبھایا۔ پنجاب میں خالصتان کی مہم کے دنوں میں ہونے والے آپریشن بلو سٹار میں سکھوں کے مذہبی مقام اکال تخت کو بہت نقصان پہنچا تھا۔ اس وقت حکومت نے اس کی تعمیر نو کروائی تھی لیکن سکھوں نے یہ بات قبول نہیں کی۔ گُرچرن سنگھ کی قیادت کی قیادت میں اکال تخت کو ایک بار توڑا گیا اور پھر اس عمارت کو سکھوں نے خود کھڑا کیا۔ مبصرین کے مطابق گرچرن سنگھ کی موت سے شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے مذہہب اور سیاست کی باریکیوں کو سمجھنے والا رہنما رخصت ہو گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||