گردوارے پر پتھراؤ، سکھوں کااحتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمالی ریاست پنجاب میں سکھوں نےاس بات پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں ان کے ایک مقدس مقام پر حملہ کیا گیا ہے۔ ننکانہ صاحب کے گردوارے پر جو سکھ مذہب کے بانی گرُو نانک دیو کی جائے پیدائش ہے، ہفتے کو سو کے قریب طالب علموں نے پتھراؤ کیا تھا۔ طالب علم اس بات پر احتجاج کر رہے تھے کہ ننکانہ صاحب کے قریب کالج کی ایک عمارت کو سکھ زائرین کے رہائشی ہال میں کیوں تبدیل کیا گیا ہے۔ سکھوں کے مقدس مقامات پر نظر رکھنے کے لیے قائم کی جانے والی سب سے بڑی کمیٹی کی سربراہ بی بی جگیر کور نے کہا ہے کہ یہ حملہ انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ یہ واقعہ ایک چھوٹی سےغلط فہمی کا نتیجہ ہے اور سکھوں کے مذہبی مقام کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بی بی جگیر نے بھارت کے صدر اور وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے جو خود بھی سکھ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ منگل کو بھارت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے: ’ہمیں امید ہے کہ حکومتِ پاکستان اس مقدس مقام کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔‘ بی بی جگیر کے مطابق ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی جلد ہی گردوارے کو پہنچنے والے نقصان کا اندازہ کرنے کے لیے پاکستان جائے گی۔ اس کمیٹی میں اراکینِ پارلیمان، ماہرین اور مذہبی رہنما شامل ہوں گے۔ پاکستان میں اس گردوارے کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ایک ٹرسٹ کے پاس ہے۔ ٹرسٹ کے اہلکاروں نےاس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک چھوٹا سا معاملہ ہے جسے بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہیئے۔ ٹرسٹ کے اظہارالحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ طالب علموں کے درمیان غلط فہی کی وجہ سے پیش آیا اور اب معاملہ رفع دفع ہو چکا ہے۔ پنجاب کے سیکریٹری تعلیم نے کہا ہے کہ طالب علموں کے لیے کالج کی نئی عمارت تعمیر ہونے کے بعد ہی پرانا کالج سکھوں کے حوالے کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||