حکومت علیحدگی پسندوں سے پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مرکزی حکومت نے پنجاب کی حکومت کو علیحدگی پسند سکھوں کو کنٹرول کرنے کا حکم دیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ نے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو سکھ علیحدگی پسندوں کی کاروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ پنجاب کے وزیر اعلی کی یہ بریفنگ مرکزی حکومت کی طرف سے سکھ علیحدگی پسندوں کی کاروائیوں پر تشویش کے بعد دی گئی۔ بھارتی حکومت کو حال ہی میں گرفتار ہونے والے چالیس سکھوں اور ان کے قبضے سے برآمد ہونے والے اسلحہ کی برآمدگی پر تشویش ہوگئی ہے کہ کہیں انیس سو اسّی اور نوّے کی دہائی میں چلنے والی علیحدگی پسند سکھ تحریک پھر سے زور نہ پکڑ لے۔ حکومتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب کے چیف منسٹر نے چالیس منٹ کی میٹنگ میں وزیر اعظم من موہن سنگھ اور دوسرے اعلی حکام کو پنجاب میں امن عامہ کی صورتحال اور سکھ علیحدگی پسند تحریک ببر خالصہ انٹرنیشنل کی کاروائیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ مزید برآں بھارت کی حکمران جماعت کانگرس نے ایک کم ذات کے سکھ کو پنجاب میں پارٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے شمشیر سنگھ کو پنجاب میں کانگریس کا صدر مقرر کیا ہے۔اس سے پہلے دہلی میں مقیم ہنسپال سنگھ پنجاب کانگرس کے صدر تھے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس نے چند ماہ بعد ریاستی انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کم ذات کے سکھ کوپارٹی کا صدر بنایا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||