BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 23:59 GMT 04:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت علیحدگی پسندوں سے پریشان
جرنیل سِنگھ بھِنڈرانوالہ(تصویر: انڈین ایکپریس)
علیحدگی پسند سکھ شدت پسند رہنما جرنیل سِنگھ بھِنڈرانوالہ اپنے حامیوں کے ساتھ(فائل فوٹو)
بھارت کی مرکزی حکومت نے پنجاب کی حکومت کو علیحدگی پسند سکھوں کو کنٹرول کرنے کا حکم دیا ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ نے وزیر اعظم من موہن سنگھ کو سکھ علیحدگی پسندوں کی کاروائیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

پنجاب کے وزیر اعلی کی یہ بریفنگ مرکزی حکومت کی طرف سے سکھ علیحدگی پسندوں کی کاروائیوں پر تشویش کے بعد دی گئی۔

بھارتی حکومت کو حال ہی میں گرفتار ہونے والے چالیس سکھوں اور ان کے قبضے سے برآمد ہونے والے اسلحہ کی برآمدگی پر تشویش ہوگئی ہے کہ کہیں انیس سو اسّی اور نوّے کی دہائی میں چلنے والی علیحدگی پسند سکھ تحریک پھر سے زور نہ پکڑ لے۔

حکومتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب کے چیف منسٹر نے چالیس منٹ کی میٹنگ میں وزیر اعظم من موہن سنگھ اور دوسرے اعلی حکام کو پنجاب میں امن عامہ کی صورتحال اور سکھ علیحدگی پسند تحریک ببر خالصہ انٹرنیشنل کی کاروائیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

مزید برآں بھارت کی حکمران جماعت کانگرس نے ایک کم ذات کے سکھ کو پنجاب میں پارٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے شمشیر سنگھ کو پنجاب میں کانگریس کا صدر مقرر کیا ہے۔اس سے پہلے دہلی میں مقیم ہنسپال سنگھ پنجاب کانگرس کے صدر تھے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس نے چند ماہ بعد ریاستی انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کم ذات کے سکھ کوپارٹی کا صدر بنایا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد