BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 December, 2004, 15:42 GMT 20:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی حکومت کا سکھوں پر پوسٹر

پوسٹر میں سکھ
اس پوسٹر میں سکھ مذہب اور رسم و رواج کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں
امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سکھوں کو عرب یا مسلمان سمجھ کر کچھ امریکیوں نے اپنا نشانہ بنانہ شروع کردیا تھا۔ ان حملوں میں کئی لوگ مارے بھی گئے۔امریکہ میں مسلمانوں، خاص کر عربوں کے خلاف حملے اب بھی جاری ہیں۔ سکھوں نے کئي طرح سے لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہیں۔

اس طرح کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیۓ اب امریکی حکومت کے شعبہ انصاف نے ایک پوسٹر جاری کیا ہے جس کے ذریعے سکھوں کے بارے میں عام لوگو ں کو مطلع کرنےکی کوشش کی گئی ہے۔ اس پوسٹر میں پگڑی باندھے ایک جوان سکھ اور دوپٹہ اوڑھے ہوئے ایک دوشیزہ کے علاوہ ایک لڑکے کی تصویر بھی ہے جو پٹکہ پہنے ہوئے ہے۔

پوسٹر میں تصویروں کے ساتھ ہی سکھوں کے مذہب اور مذہبی لباس کے متعلق اہم باتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔اس پوسٹر کے ذریعے پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ سکھوں کے مذہبی جذبات کو مدنظر رکھ کر تحقیقات کریں۔

سکھ مذہب کے بارے میں اس پوسٹر میں لکھا ہے کہ یہ مذہب پندرہویں صدی میں جنوبی ایشیا میں شروع ہوا اور یہ اسلام اور ہندو دھرم سے الگ ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ’مذہبی وجوہات کے سبب سکھ فرقے کے لوگ اپنے بال نہیں کٹواتے ہیں اور سر پر پگڑي پہنتے ہیں جسے باندھنے میں کوئی دس پندرہ منٹ لگتے ہیں‘۔

امریکہ میں قریب تین لاکھ سکھ رہتے ہیں۔کچھ تجارت اور اچھے روزگار پر ہیں تو کچھ چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں۔نیویارک میں کچھ سکھ ٹیکسی چلاتے ہوئے یا پھر پٹرول پمپ پرکام کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

سکھ فرقے کے لوگوں نے اپنے متعلق غلط فہمی دور کرنے کے لیے امریکی حکومت کی اس نئی پہل کا خیرمقدم کیا ہے۔

ایک سکھ تنظیم کے قانونی ڈائریکٹر امردیپ سنگھ کا امریکی باشندوں میں سکھوں کے بارے میں پھیلی غلط فہمی کے بارے میں کہنا ہے’ گزشتہ تین برس میں میں نے بہت سے سرکاری اہل کاروں سے ملاقات کی۔ ان لوگوں کو تو عرب شیخ اور سکھوں کے درمیان کچھ فرق ہی نہیں معلوم ہے۔ پگڑی اور داڑھی کو اب اس ملک میں دہشت گردی کی علامت سمجھا جا تا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ’ یہ صحیح قدم ہے کہ عام لوگوں کو الگ الگ مذاہب کے بارے میں بتایا جائےاور خاص کر پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کو یہ سمجھانا بہت ضروری ہے‘۔

حالیہ دنوں میں بھی کچھ سکھوں پر حملے ہوئے ہیں۔ریاست ورجینیا میں گزشتہ ہفتے ایک سکھ کے پٹرول پمپ پر حملہ کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ اسکے علاوہ کوڑے کے ڈبوں پر عربوں اور مسلمانوں کے بارے میں نازیبا کلمات لکھے پائےگئے تھے۔ یہی وجہ ہے اب بھی سکھ فرقے کے لوگ خوفزدہ ہیں۔ اسکے علاوہ سرکاری نوکریوں میں بھی پگڑی کے سبب سکھوں کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے ۔

اب سکھوں کو یہی امید ہے کہ انکے بارے میں لوگوں کی غلط فہمیاں امریکی حکومت کی اس نئی پوسٹرمہم کے ذریعے دور کی جا سکیں گي۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد