| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
سِکھوں کا پگڑی پہننے کا حق
یورپ بھر سے سینکڑوں سکھوں نے پیرس میں جمع ہو کر اس قانون کے خلاف مظاہرہ کیا جس کے تحت فرانس کے اسکولوں میں مذہبی علامات کو غیر قانونی قراد دے دیا جائے گا۔ فرانس میں چھ ہزار کے قریب سکھ رہتے ہیں جنہیں اس بات کا شدید غصہ ہے کہ قانون بناتے وقت ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آئندہ ہفتے پارلیمان میں پیش ہونے والے مجوزہ قانون کے تحت سکھوں کی روایتی پگڑی جو تمام مرد پہنتے ہیں خلافِ قانون ہو جائے گی۔ احتجاج کرنے والوں میں سے ایک گرسیو سنگھ کا کہنا تھا کہ پگڑی ان کے مذہبی کی علامت ہے جسے وہ کسی قانون کے لئے نہیں چھوڑ سکتے۔ دو سے تین ہزار کے قریب سکھوں نے پیرس میں پلاس دو لا رپبلیک جہاں گزشتہ صدی کے دوران بڑے بڑے مظاہرے ہوئے اپنا مارچ شروع کیا۔ برطانیہ سے بہت بڑی تعداد میں سکھ مظاہرے میں شرکت کے لئے پیرس گئے تھے۔ بھارت سے بھی ایک سکھ رکن پارلیمان پیرس پہنچ کر مظاہرے میں شریک ہوئے۔ فرانس میں سکھوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ قانون بناتے وقت فرانسیسی حکومت کو خیال ہی نہیں رہا کہ ان کے ملک میں سکھ بھی رہتے ہیں۔ سکھوں اور فرانسیسی حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں لیکن ابھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ان کے درمیان کیا سمجھوتہ ممکن ہے۔ سکھوں نے فرانسیسی محکمۂ تعلیم کے اس مشورے کو زیادہ اہمیت نہیں دی کہ وہ پگڑی کی جگہ ایسا جالی والا نیٹ پہن لیں جو نظر نہ آئے۔ سکھ غیر ارادی طور پر ایک ایسے فیصلے کا شکار ہو گئے جس کا اصل نشانہ شاید ’اسلامی انتہا پسندی‘ اور حجاب پہننے والی مسلمان لڑکیاں تھیں۔ پگڑیوں پر بحث جس کے بارے میں چند ہفتے پہلے کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا اس مشکل کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں فرانسیسی حکومت نے اپنے آپ کو پھنسا لیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||