پگڑی: سکھوں کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی سکھ فرانس کے اسکولوں میں مذہبی حجاب، یا پگڑیوں پر پابندی عائد کیے جانے کے فیصلے پر احتجاج کے لیے سنیچر کو لندن میں قائم فرانسیسی سفارتخانے پر ٹوٹ پڑے۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق قریباً آٹھ سو سکھ باشندے لندن کے علاقے نائیٹس برج میں واقع فرانسیسی سفارتخانے کے باہر جمع ہوئے تھے تاکہ فرانس میں حکومت کی جانب سے مذہبی پگڑی پہننے پر پابندی عائد کیے جانے پر فرانس میں مقیم سکھ باشندوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرسکیں۔ اس احتجاج میں جنگ عظیم دوئم میں برطانوی فوج کی جانب سے حصہ لینے والے سکھ باشندوں کے ساتھ ساتھ برطانوی لیبر پارٹی کے جان میکڈونلڈز، باب اینس ورتھ اور فیونا میک ٹیگرٹ بھی اس احتجاج میں شریک تھے۔ منتظمین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ سکھوں کو بغیر پگڑی کے رکھنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی کو بغیر کپڑوں کے رکھنا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دس فروری کو فرانسیسی ارکان پارلیمان نے اسکولوں میں اسلامی حجاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کی مذہبی علامات پہننے کی ممانعت کردی تھی اور سکھوں کی پگڑی بھی اس کی زد میں آگئی تھی۔ فرانس میں یہ مجوزہ قانون ابھی منظوری کے لیے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں بھیجا جانا ہے۔ سنیچر کا یہ احتجاج اکھنڈ کیرتنی جتھہ (اے کے جے) اور برطانوی سکھ کونسل نے مشترکہ طور پر ترتیب دیا تھا۔ اے کے جے کے جگ روپ سنگھ نے کہا کہ سکھ برادری فرانسیسی وزیر خارجہ ڈومینیک ویلیپاں کی اس حالیہ یقین دہانی سے مطمئن نہیں ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کے اس مسئلہ کا کوئی ’اطمینان بخش‘ حل نکالا جائے گا۔ انہوں نے کہا ’سکھوں کے لیے تو یہ بات سمجھنا ہی مشکل ہے کہ یہ حل کیسے اطمینان بخش ہوسکتا ہے۔ جبکہ خود وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حل کوئی بھی اس نئے قانون کے تحت ہی ہوگا۔۔۔‘ فرانسیسی سکھ اس بات پر چراغ پا ہیں کہ اس قانون کی منظوری کے لیے چھ ہزار سکھ باشندوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ستم بالائے ستم تو یہ ہے کہ وہ ایک لاکھ اڑتیس ہزار ہندوستانی سپاہیوں جب جنگ عظیم دوئم میں بیلجیئم اور فرانس میں لڑے اور جنہوں نے فرانس کے حق آزادی کے لیے لڑتے ہوئے فرانسیسی سرزمین پر زندگی کی آخری سانس لی۔۔۔خود وہ بھی پگڑی ہی پہنے ہوئے تھے۔۔۔‘ اکتیس جنوری کو جب فرانس میں اس قانون کی تجویز زیر غور تھی تو یورپ بھر کے سکھوںنے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں اس تجویز پر شدید احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد جب فرانسیسی وزیر خارجہ ویلیپاں بھارت کے دورے پر دلی پہنچے تھے تو بھی سکھوں کی ایک بڑی تعداد نے اس قانون کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ’ہم پگڑی کو اپنے جسم ہی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ اس کے بغیر ہم بالکل ایسے ہی ہیں جیسے کوئی اپنے لباس کے بغیر ہو۔۔۔یہ بغید از قیاس اور مکمل طور پر تذلیل آمیز ہے۔۔۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||