فرانس سے سکھوں کی ناراضی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی سکھ فرانسیسی وزیرِ خارجہ ڈومینک دی وللےپن کے خلاف مظاہرے کی تیاری کر رہے ہیں جوجمعہ کو بھارت کے دورے پر جارہے ہیں۔ سکھ برادری فرانسیسی سکولوں میں پگڑی اور دوسری مذہبی علامتوں پر پابندی کے مجوزہ قانون سے نا خوش ہیں۔ سکھوں کے ایک پانچ رکنی وفد نے فرانسیسی سفارت کار سے ملاقات کرکے انہیں ایک پٹیشن دی کہ اس قانون کو واپس لیا جائے۔ اس پٹیشن پر دنیا بھر سے ایک لاکھ سکھوں کے دستخط لئے گئے تھے۔ عالمی پنجابی تنظیم کے صدر وکرم جیت سنگھ شہانے نے کہا کہ فرانسیسی پارلیمان کی جانب سے منظور ہونے والے اس قانون کے تحت سکھ طالب علموں کو اسکولوں میں پگڑی پہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ فرانس میں تقریباً سات ہزار سکھوں کے ساتھ مسلمانوں نے بھی اس بل کے خلاف احتجاج کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے فرانسیسی حکومت کے سامنے اس حقیقت کو واضح کرنے کی کوشش کی کہ پگڑی مذہبی علامت نہیں بلکہ سکھوں کی طرزِ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ اس پابندی پر عمل انکے لئے اپنا مذہب چھوڑنے کے مترادف ہے۔ وکرم جیت شہانے نے کہا انہیں امید ہے کہ حکومتِ فرانس اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریگی۔انہوں نے فرانسیسی وزیرِخارجہ کے ساتھ ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کی۔ بھارت میں سکھوں کا سیاسی گروپ قومی اکالی دل حکومتِ فرانس کے خلاف مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ مسٹر وللےپن جمعہ کے روز بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور وزیرِ خارجہ یشونت سنہا سے ملاقات کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||