’مذہبی سیاحت کو فروغ دیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں سکھ زائرین پاکستان میں مقدس مقامات کی زیارت کسی دشواری کے بغیر کر سکیں گے۔ سکھوں کے گرو گرونانک دیو کی یوم پیدائش کے موقع پر دلی ميں گرودوارہ بنگلہ صاحب میں عبادت کے بعد وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ انکی یہ تمنا ہے کہ وہ پاکستان میں واقع تاریخی ننکانہ صاحب اور دیگر گرودواروں کی زیارت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے بات چیت کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ سکھ کسی دشواری کے بغیر پوری آزادی کی ساتھ پاکستان میں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کرسکیں۔ ننکانہ صاحب گرونانک کی جائے پیدائش ہے اور سکھوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ سکھ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ نانکانہ صاحب جانے کے لیے کوٹہ سسٹم کے بجائے امرتسر باقاعدہ بس سروس شروع کی جائے۔ پاکستانی رہنماؤوں سے مزاکرات میں ہندوستان نے تجویز رکھی ہے کہ ہندوستان میں اجمیر میں خواجہ کی درگاہ اور دلی میں نظام الدین و بختیار کاکی جیسی درگاہوں اور پاکستان میں ننکانہ صاحب اور دیگر مقدس مقامات کی زیارت کے لیے نئی سروسز شروع کی جاسکتی ہیں۔ یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ زائرین کے لیے ویزا مین نرمی کی جائے اور مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جائے۔ اس تجویز پر بظاہر دیگر معاملات کی طرح کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||