حسن ابدال میں بیساکھی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد سے تقریباً پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر راولپنڈی اور پشاور کو ملانے والی جرنیلی سڑک (جی ٹی روڈ) پر ایک چھوٹا سا شہر حسن ابدال ہے۔ اس شہر کی ایک وجہ شہرت یہاں واقع ’گردوارہ پنجہ صاحب‘ ہے۔ یہاں سکھوں کے لیے ایک مقدس علامت ’بابا گرو نانک‘ کے ہاتھ کا وہ نشان’پنجہ‘ ہے، جو ایک پتھر پر ایک نقش کی صورت میں موجود ہے۔ جس کی تاریخ تقریباً تین سو سال پرانی ہے۔ ہر سال اپریل کے مہینے میں ’بیساکھی‘ کا میلہ یہاں سجتا ہے اور پوری دنیا سے، خاص طور پر ہندوستان سے ہزاروں کی تعداد میں سکھ یاتری ’پنجا صاحب‘ کی زیارت کرنے یہاں آتے ہیں۔ اس سال بھی بھارت سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سکھ یاتری اور دوسرے ممالک سے جن میں یورپ کے ممالک بھی شامل ہیں لگ بھگ پندرہ سو یاتری اس میلے میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ اگر ملک بھر سے آنے والے یاتریوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو اس میلے میں شرکت کرنے والے یاتریوں کی تعداد تقریباً دس سے بارہ ہزار ہو جاتی ہے۔
سکھوں کی ایک بڑی تعداد جب اپنی رنگ برنگی پگڑیوں کے ساتھ حسن ابدال کے بازاروں میں گھوم رہی ہوتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ان گلیوں میں بہار آ گئی ہو اور ہر طرف مختلف رنگوں کے پھول کھل آئے ہوں۔ یہاں کے مرکزی بازار میں ہندوستان سے آئی ہو ایک خاتون سکھ یاتری ترپت کور کا کہنا تھا کہ اس بازار میں موجود تمام اشیاء ہی ہندوستان میں با آسانی مل جاتی ہیں لیکن وہ پاکستان سے کچھ خریدے بغیر واپس نہیں جانا چاہتیں۔ اس لیے وہ بازار میں اپنی پسند کی اشیاء تلاش کر رہی ہیں۔ بیساکھی کے میلے میں ہندوستان سے آنے والے بڑی تعداد میں سکھ یاتری جن کی پاکستان آمد کا اولّین مقصد اپنی مذہبی رسومات ادا کرنا ہوتا ہے، لیکن ہندوستان کی ریاست انبالہ سے آئے ہوئےایک چوبیس سالہ نوجوان چرن جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ اُن کو جس چیز نے یہاں آنے پر سب سے زیادہ مائل کیا، وہ پاکستان کے شہر راولپنڈی دیکھنے کی خواہش تھی۔ چرن سنگھ کے والد کی پیدائش روالپنڈی میں ہوئی تھی، جس کا تذکرہ اُن کے والد اکثر کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اُن کے دل میں اس بات کی شدید خواہش ہے کہ وہ راولپنڈی ضرور دیکھیں جس کا ذکر وہ بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ بیساکھی کے میلے کا انتظار سکھوں کو اپنے مذہبی لگاؤ کی وجہ سے تو ہوتا ہی ہے لیکن حسن ابدال کے مین بازار کے دوکاندار بھی اس تہوار کے بڑی بے چینی سے منتظر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں اس میلے کی باعث اُن کی بکری کئی گناہ بڑھ جاتی ہے۔ حسن ابدال کےمین بازار کے ایک دوکاندار محمد یونس کا کہنا تھا کہ عام دنوں میں اُن کی بکری چار، پانچ سو روپے روزانہ ہوتی ہے جو میلے کے دنوں میں بڑھ کر چار، پانچ ہزار روپے ہو جاتی ہے۔ محمد یونس کہتے ہیں کہ عام دنوں میں خریداروں کے نہ ہونے کی وجہ سے یہاں سرِ شام ہی بازار بند ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بیساکھی کے میلے کی وجہ سے ہر طرف چہل پہل ہوتی ہے اور بازار رات گئے تک کھلے رہتے ہیں۔ سو جہاں اس میلے کا انتظار مقامی آبادی کو ہوتا کہ اُن کا کاروبار بہتر ہوگا، وہیں چرن جیت سنگھ جیسے نوجوانوں کو بھی یہ تہوار اپنی دلی خواہشات پوری کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||