BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 November, 2004, 08:57 GMT 13:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکھ یاتری پاکستان پہنچ رہے ہیں

پاکستان میں سکھوں کا گردوارہ
پاکستان میں سکھوں کا گردوارہ
سکھ مذہب کے بانی اور ان کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک کے پانچ سو پینتیسویں جنم دن میں شرکت کے لیے دنیا بھر سےسکھوں کے جتھے پاکستان پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

ڈیڑھ سو کے قریب سکھ کل مختلف پروازوں سے لاہور پہنچ گئے ہیں جبکہ ان کی آمد کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ سکھوں کی سب سے بڑی تعداد آج بھارت سے پاکستان آئے گی۔ حکام کے مطابق صرف آج کے دن بھارت سے آنے والے ان سکھوں کی تعداد چار ہزار کے لگ بھگ ہے۔

پاکستان ریلوے نے سکھوں کے لیے خصوصی ٹرینیں چلائی ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ آج شام تک چار ٹرینیں سکھوں کو بھارت سے پاکستان لیکر آئیں گی۔

پہلی ٹرین آج دوپہر تقریبا ایک بجے واہگہ کے راستے پاکستان میں داخل ہوگی۔
واہگہ ریلوے سٹیشن پر ان کا استقبال متروکہ وقف املاک بورڈ پاکستان اور گردوارہ پر بندھک کمیٹی کے عہدیدار وں نے کیا۔ سکھ یاتریوں پر گل پاشی کی گئی اور انہیں کھانا دیا گیا۔

اس موقع پر گردوارہ پربندھک کمیٹی کے سربراہ سردار مستان سنگھ نے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے سکھ یاتریوں کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

بھارت کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، سنگاپور، ملائشیا، تھائی لینڈ، امریکہ اور یورپ کے دیگر ممالک سے بھی سکھ پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سکھ تقریبا ڈیڑھ ہفتہ پاکستان میں قیام کریں گے۔

سکھوں کوآج سے ہی لاہور سے حسن ابدال منتقل کیا جانا شروع کر دیا گیا ہے۔ حسن ابدال میں وہ دو روز گزاریں گے۔ اس دوران وہ گردوارہ پنجہ صاحب کی زیارت کریں گے۔

چوبیس نومبر سے ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک کے جنم استھان پر ان کے جنم دن کی تقریبات کا آغاز ہوجائے گا۔ یہ مذہبی رسومات چار روز تک جاری رہیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ ان تقریبات میں چھ ہزار کے قریب سکھ شرکت کریں گے۔

اس کے بعد یہ تمام سکھ لاہور آجائیں اور گردوارہ ڈیرہ صاحب کی زیارت کریں گے۔ سکھوں کے زیادہ تر مقدس مقامات پاکستان میں ہیں جن میں ننکانہ صاحب شیخوپورہ میں واقع بابا گرونانک کا جنم استھان ان کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے۔

سکھ رہنماؤں کا کہنا ہےکہ مذہب سے لگاؤ رکھنے والا ہر سکھ صبح اٹھ کر سب سے پہلے یہ دعا کرتا ہے کہ اسے بابا گرونانک کے جنم استھان کی زیارت نصیب ہو۔

سکھوں کے نَزدیک بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات ان کےلیے اہم ترین ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کے بعد پاکستان میں سکھ یاتریوں کی تعداد میں خاصی کمی ہوگئی تھی۔

لیکن کچھ عرصے سے تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ سکھ یاتریوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ انیس سو ستانوے کے بعد پہلی مرتبہ سکھوں کی اتنی بڑی تعداد پاکستان آرہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد