BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 September, 2004, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم طلباء کا حملہ، کشیدگی

ننکانہ صاحب میں سکھوں کا مندر
ننکانہ صاحب میں سکھوں کا مندر
پاکستانی پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے نزدیک واقع ننکانہ صاحب میں سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کے جنم استھان پر مسلمان طلباء کے حملے کے بعد کشیدگی پائی جاتی ہے۔

طلباء نے سنیچر کے اس حملے کے دوران پتھراؤ کیا اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے شہر میں مختلف مقامات پر پتھراؤ کیا، کئی سرکاری اور غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، بسوں اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔

ننکانہ صاحب کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے یہ طلباء جنم استھان کے ساتھ واقع گورنمنٹ ڈگری کالج ننکانہ صاحب کی عمارت خالی کروا کر سکھوں کے حوالے کیے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

تھانہ سٹی ننکانہ کے ڈیوٹی افسربشیر نے بتایا کہ’محکمۂ تعلیم نے اس کالج کی عمارت کو تین دن کے اندر خالی کرنے کا حکم دیا تھا جس پر طلباء مشتعل ہوگئے تھے۔‘ مظاہرین نے عمارت خالی کرنے سے بھی انکار کردیا ہے۔

پولیس نے تیس کے قریب طلباء کو بھی حراست میں لے لیا تھالیکن بعدازاں پولیس نے ان کی باقاعدہ گرفتاری ڈالنے سے انکار کر دیا۔ ڈی ایس پی ننکانہ صاحب سید شمس الحسن نے بتایا کہ تاحال کوئی مقدمہ درج ہوا ہے نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جنم استھان کے صرف مرکزی گیٹ پر پتھراؤ کیےگیا تھا جس سے آپنی گیٹ کو کوئی قابل ذکر نقصان نہیں پہنچا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ طلباء نے سکھوں کے گھروں اور ہندو اوقاف کے دفتر پر بھی حملہ کیا اور پتھراؤ کیا ہے۔

ادھر سکھوں کے ایک گروپ نے جوابی طور سنیچر کی رات لاہورمیں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور تھوڑی دیر کے لیے ٹریفک بھی بلاک کی لیکن کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی گئی ہے۔

سکھ مظاہرین کا کہناتھا کہ مظاہرے کے دوران سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے چھ افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ سکھ مظاہرین نے کہا مسلمان طلبا’ نے دھمکی دی ہے کہ پیر کو کسی سکھ کو دکان کھولنے دی جائےگی نہ کسی کو تعلیمی ادارے جانے دیا جائےگا۔

اتوار کو پولیس نے بتایا کہ علاقے میں ابھی بھی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ضلعی ناظم، پولیس، انتظامیہ اور محکمہ تعلیم کے حکام بھی ننکانہ صاحب پہنچ گئے ہیں۔

حکومت پنجاب اس کالج کی عمارت خالی کرواکے وہاں سکھ یاتریوں کے قیام کے لیے ہاسٹل تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ کالج بچاؤ کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے انہیں پہلے متبادل عمارت فراہم کی جائے پھر وہ یہ عمارت خالی کریں گے۔

بھارت اور دنیا بھر سے سکھ کے گروہ سارا سال مختلف اوقات میں پاکستان میں قائم اپنے مقدس مقامات کی یاترا کے لیے آتے ہیں۔

پاکستان کے سکھ رہنماؤں کا کہنا ہےکہ ننکانہ صاحب ان کے لیے مقدس ترین مقام ہے اور مذہب سے معمولی لگاؤ بھی رکھنے والاہر سکھ صبح اٹھ کر سب سے پہلے یہی دعا کرتا ہے کہ اسے ننکانہ صاحب کی زیارت کا شرف ملے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد