سکھ قتل عام: بھارتی وزیر مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ناناوتی کمیشن کی رپورٹ پر ہنگامہ آرائی کے بعد کانگریس کے ایک وفاقی وزیر جگدیش ٹائیٹلر نے استعفیٰ دیدیا ہے۔ ناناوتی کمیشن انیس سو چوراسی میں سکھوں کے خلاف ہونے والی ہنگامہ آرائی کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا اور اس نے اپنی رپورٹ میں کانگریسی پارلیمنٹ رکن سجّن کمار مرکزی وزیر جگدیش ٹائٹلر اورکانگریس لیڈر ایچ کے ایل بھگت کی طرف انگلی اٹھائی تھی۔ جگدیش ٹائٹلر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کو پیش کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس استعفے کی نقل انہوں نے وزیراعظم من موہن سنگھ کو بھی بھیجی ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے اس اعلان کے بعد کے کمیشن کی رپورٹ میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، ان کا وزارت میں رہنا ممکن نہیں رہ گیا تھا۔ بھارتی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ کہ 84 کے سکھ فسادات میں جن لوگوں کے نام آیا ہے ان کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 1984 میں جو کچھ ہوا وہ انتہائی شرمناک تھا لیکن سیاسی جماعتوں کا اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بھارتی پارلیمان میں سکھوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ناناوتی کمیشن رپورٹ کے حوالے سےحکومت پر شدید تنقد ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیراعظم منموہن سنگھ اور وزیرداخلہ شیو راج پاٹل کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ خود حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی حکومت پر نکتہ چینی کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||