ناناوتی رپورٹ پر ہنگامہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی پارلیمان میں سکھوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ناناوتی کمیشن رپورٹ کے حوالے سےحکومت پر شدید تنقد ہوئی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیراعظم منموہن سنگھ اور وزیرداخلہ شیو راج پاٹل کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ خود حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی حکومت پر نکتہ چینی کی ہے۔ منگل کی صبح پارلیمان اجلاس کی ابتداء ہوتے ہی اس مسئلے پر ہنگامہ شروع ہوگيا۔ بالآخر اسے دن بھر کے لیے ملتوی کردیا گياہے۔ سابق وزیراعظم اٹل بہار واجپئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ناناوتی تحقیقاتی رپورٹ میں جن افراد پر الزامات عائد کیے گیے ہیں انہیں استعفٰی دے دینا چاہیے۔ لیکن قومی جمہوری محاذ یعنی این ڈی اے نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ سمیت ایک مرکزی وزیر جگدیش ٹائٹلر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان جماعتوں کا کہنا ہے کہ ناناوتی رپورٹ میں جن افراد پر شکوک و شبہات ظاہر کیے گیے ہیں انکے خلاف حکومت فوری کارروائی کرے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے ناناوتی کمیشن رپورٹ پر نکتہ چینی کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ حکوت نے اس پر جو کارروائی رپورٹ پیش کی ہے وہ اطمینان بخش نہیں ہے۔ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رپورٹ میں جن افراد کے نام شامل ہیں انکے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ ادھرحکومت نے اشارہ کیا ہے کہ کارروائی رپورٹ پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ ناناوتی کمیشن نے کانگریسی پارلیمنٹ رکن سجّن کمار مرکزی وزیر جگدیش ٹائٹلر اورکانگریس لیڈر ایچ کے ایل بھگت کی طرف انگلی اٹھائی تھی۔ لیکن حکومت نے انکے خلاف یہ کہ کر کارروائی کرنے سے انکار کیا تھا کے انکے خلاف پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ دلی میں سکھوں کی بعض تنظیموں نے ناناوتی رپورٹ اور اس سلسلے میں حکومت کے رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ احتجاجی مارچ میں زیاد تر وہ خواتین شامل تھیں جنکے لواحقین سنہ انیس سو چوراسی کے فسادات میں مارے گئے تھے۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ انہیں انصاف چاہیے۔ انکا کہنا تھا کہ تقریباً تین ہزار سکھ مارے گئے تھے اور ابھی تک اس کے لیےکسی کو بھی سزا نہیں ملی ہے۔ بھارت میں سکھوں کے خلاف فسادات اکتیس اکتوبر انیس سو چوراسی کو سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد شروع ہوئے تھے۔ لیکن اس کی تحقیقات کا آغاز سن دو ہزار میں ہوا تھا۔ اس سے پہلے بھی تحقیقات ہوئی تھیں لیکن سکھوں نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||