’امن مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی سرزمین سے بھارت کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیاں ہوتی رہیں تو امن مذاکرات میں رکاوٹ آ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں اپنے خطاب کے دوران کہی۔ منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ ’ ہماری حکومت پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری اور بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات کا قابلِ عمل حل نکالنے کے لیے تیار ہیں لیکن اگر پاکستان کی سرزمین ہمارے ملک کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی تو ان تمام معاملات کے حل ہونے کی فضا خراب ہو سکتی ہے‘۔ اپنے خطاب میں بھارت اور امریکہ کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے بھارتی وزیرِاعظم نے کہا کہ امریکہ بھارت تعلقات کے نتیجے میں بھارت کو بہت فائدہ ہوا ہے اور وہ ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم ماضی کے تعلقات کو ایک نئی نہج پر لے جانا چاہتے ہیں۔ امریکہ سےاس نئی شراکت داری میں ہماری توجہ باہمی تجارت، قوت(انرجی)، زرعی تحقیق، تعلیم اور تجارت کے میدانوں میں تعاون پر ہو گی۔ اکیسویں صدی علم کے حصول کے صدی ہو گی اور امریکہ اور بھارت اس سلسلے میں بہترین معاون ثابت ہو سکتے ہیں‘۔ بھارتی وزیرِ اعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے حوالے سے ’جی فور‘ کی قراردار کا مسترد کیا جانا اس بات کو ظاہر نہیں کرتا کہ امریکہ سلامتی کونسل میں بھارت کے مستقل نشست کے مطالبے کے بھی مخالفت کرتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||