منموہن کی سجّاد لون سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم منموہن سنگھ نے اعتدال پسند کشمیری رہنما سجاد لون سے ملاقات کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہاہے کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر میں جمہوری حکومت ہونے کے باوجود وہاں بعض جماعتوں کے خیالات اور نظریات مختلف ہیں اس لیے وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سبھی دھڑوں سے مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ اور سجاد لون کے درمیان تقربیًا ایک گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وزیر اعظم کے میڈیا مشیر سنچے بارو نے کہا کہ بات چیت مثبت اور تعمیری رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’وزیراعظم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کشمیر کے مختلف دھڑوں میں کئی طرح کے نظریات پائے جاتے ہیں اور اس مسئلےکے حل کے لیے وہ سبھی سے بات چیت کریں گے‘ ۔ میٹنگ کے بعد سجاد لون نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ ان کی بات چیت بہت مثبت تھی۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ مذاکرت سے فوری طور پر نتائج کی امید کرنا درست نہیں ہے اور بات چیت جاری رہنا اہم ہے۔ ’اگر بات چیت کے نتائج فوری طور پر نا نکلیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ کشمیر کے متعلق ہرامور پر بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن اندر کیا بات ہوئي اصولی طور پر میں اسے نہیں بتا سکتا۔ یہ اصول کے منافی ہے اور ایسا کرنے سے مقصد میں کامیابی بھی نہیں ملتی ہے‘۔ مسٹر لون کا کہنا تھا کہ یہ ابتدا ہوئی ہے اور اس بارے میں سب سے ملاقاتوں کہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں سجاد لون کی جماعت پیپلز کانفرنس اعتدال پسند جماعت ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے سجاد لون سے ملاقات کے لیے دلی آنے کی دعوت دی تھی۔ اس بات چیت میں ان کی جماعت کے چار دیگر ارکان نےبھی حصہ لیا۔ میٹنگ میں وزارت داخلہ کے سیکریٹری اے کے دگل اور قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارانن جیسے کئی اعلٰی افسروں نے بھی شرکت کی۔ | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||