BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 January, 2006, 17:54 GMT 22:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بائیں بازو کی انگڑائی

اگر آپ کا خیال ہے کہ سرخ سویرا، عوامی انقلاب، ولادی میرلینن، کارل مارکس اور کمیونسٹ مینی فیسٹو وغیرہ اب محض ماضی کا قصّہ بن چُکے ہیں تو یہ آپکی بھول ہے۔

پرانے کامریڈوں کا قافلہ بھارت سے چل کر کراچی پہنچا اور اب لاہورمیں اُس نے سن 60 اور 70 کی دہائیوں کے ہنگامہ پرور دنوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔

تقریب تھی انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے اجلاس کی اور موقعہ تھا ادیب اور دانشور سیّد سجاد ظہیر کے صد سالہ جشنِ وِلادت کا جِن کی صاحبزادی نور ظہیر بھی بھارت سے آنے والے پچیس رکنی وفد میں شامل تھیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ادیبوں کی معاشرتی ذمہ داری سائنس دانوں، سیاست دانوں اور ماہرینِ معاشیات سے بڑھ کر ہوتی ہے اور پاک و ہند کی صورتِ حال میں تو ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں پر یہ اضافی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ سرحد کے آر پار پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دُور کر کے دونوں جانب کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لائیں۔

نور ظہیر نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ ترقی پسند ادب کے شہ پاروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا جائے کیونکہ نئی نسل اُردو اور ہندی سے دُور ہوتی جارہی ہے اور انہیں اپنے ادب و دانش کی روایات سے روشناس کرانے کے لیے انگریزی ایک موثّر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

سوشلسٹ لٹریچر پھر سے اسٹال پر

ہندوستان کی صورتِحال میں انگریزی کا کردار اس لیے بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے کہ ہندی، اُردو، بنگالی، ملیالم، تلیگو، تامل، کنڑ، مراٹھی اور پنجابی بولنے والے عوام انگریزی کے ذریعے ایک دوسرے کے ادبی شہکاروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

بھارت سے آئے ہوئے دانشور کملا پرشاد نے کہا کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے سے دُنیا بھر کی ترقی پسند قوّتوں کو جو جھٹکا لگا تھا اب وہ اس سے سنبھل چکی ہیں اور اپنی تنظیمِ نو میں مصروف ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پرولتاریہ کی مطلق العنانی کا کلاسیکی نظریہ بعد میں خود عالمی مزدور تحریک نے مسترد کر دیا تھا اور اسکی جگہ عوامی جمہوریت کے تصوّر کی حمایت کی تھی۔

ہندوستان میں کچھ عرصے کے لیے فرقہ پرست قوّتیں عوامی ووٹ کے ذریعے اقتدار میں ضرور آ گئی تھیں لیکن عوام نے جلد ہی اس غلطی کو محسوس کر لیا اور زیادہ دیر تک انھیں عنانِ اقتدار اپنے ہاتھوں میں رکھنے کی اجازت نہیں دی۔

نور سجاد
سجاد ظہیر کی صاحبزادی نور ظہیر

کملا پرشاد نے سجاد ظہیر کے حوالے سے کہا کہ وہ ادب کو، دانشوری کو اور شاعری کو خارجی حقائق سے الگ کر کے نہیں دیکھتے تھے اور شعر و ادب کی تخلیق کو وہ کوئی الہامی عمل سمجھنے کی بجائے روزمرّہ زندگی سے جُڑی ہوئی کارروائی قرار دیتے تھے، چنانچہ آج بھی ادیبوں شاعروں کے لیے اس حقیقت کا ادراک انتہائی اہم ہے کہ اُن کا کام حرف و صَوت کے انوکھے ہیولے تیار کرنا یا کسی طلسمی اور ماورائی فضا کا نقشہ کھینچ کر لوگوں کو اُس میں گم کر دینا نہیں ہے بلکہ فن کار کو اپنے گردوپیش کے ماحول سے اپنے فن کا خمیر اٹھانا چاہیئے۔

لاہور میں منعقد ہونے والے ترقی پسندوں کے اِس اجتماع سے جن پاکستانی دانشوروں نے خطاب کیا اُن میں ڈاکٹر سعادت سعید اور ڈاکٹر عالم خان نے ترقی پسند تحریک کے احیاء کا جائزہ لیا۔

اشفاق سلیم مرزا نے زوالِ تحریک کے اسباب پر روشنی ڈالی اور عابد حسن منٹو نے اپنی مفصّل تقریر میں عالم گیریت یعنی گلوبلائزیشن کے چہرے سے خوبصوت پردہ اٹھا کر اُس کی بھیانک شکل حاضرین کو دکھائی۔

فاروق طارق سیکرٹری لیبر پارٹی پاکستان

جلسہ گاہ کے باہر لوگوں نے عرصہء دراز کے بعد ایک بک سٹال پر لینن، مارکس اور ماؤ کی کتابوں کے تراجم دیکھے اور کمیونسٹ مینی فیسٹو کا نیا اُردو ایڈیشن بھی نظر آیا۔

یہ سٹال لیبر پارٹی پاکستان کے کارکنوں نے لگایا تھا اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل فاروق طارق سٹال پہ جمع ہو جانے والے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ سوشلزم ناکام نہیں ہوئی روس، چین، ہنگری اور پولینڈ وغیرہ میں جو چیز ناکام ہوئی ہے وہ محض بیوروکریسی ہے۔

اسی بارے میں
عالمگیریت پر کڑی نکتہ چینی
28 October, 2003 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد