کراچی میں بائیں بازو کی یادیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کی شام آرٹس کونسل کراچی کے ہال میں کچھ اس طرح سے اتر آئی کہ وہاں یادیں ہی یادیں اور سرخ انقلاب کی باتیں تھیں۔تاریخ کو باتوں اور قصوں میں بیان کیا جا رہا تھا۔وہ باتیں اور تاریخ جو کبھی سرعام کراچی میں شجر ممنوع تھیں ان کو بیان کیا جا رہا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد پاک بھارت اور بنگلہ دیش کے بائیں بازو کے رہنماؤں کا اتنا بڑا یہ پہلا اجتماع تھا۔موقعہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل سجاد ظیر کی جشن صد سالہ تقریبات کا تھا۔ اس تقریب نے ایک شام کے لیے پرانے کمیونسٹ کارکنوں کے ذہنوں میں ایک بار پھرسرخ پھریرے لہرا دیئے تھے۔
بر صغیر کے کیمونسٹ رہنما سجاد ظہیر کے صد سال جشن کی تقریب میں بھارت سے ان کے بڑے داماد راج ببر، چھوٹی بیٹی نور ظہیر، قریبی دوست اے کے ہنگل، کمیونسٹ پارٹی کے رہنما سیتارام اور پروگریسو رائٹرز فورم کے سیکریٹری جنرل کمل پرساد نے بھی شرکت کی۔ جبکہ بنگلہ دیش سے کیمونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل مجاہد الاسلام بھی آئے ہوئے تھے۔ ان سب نے سجاد ظہیر کو اپنا رہنما قرار دیا۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی جانب سے منعقدہ اس تقریب میں حمید اختر، کامریڈ سوبھوگیانچندانی اور ابراہیم جویو بھی مقررین میں شامل تھے۔ جبکہ شرکا میں پرانے کامریڈوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ بھارت کے نامور اداکار اور سیاستدان راج ببر کا کہنا تھا کہ سجاد ظہیر نے جو لو جلائی تھی اس کی روشنائی یہاں موجود ہے۔ انہوں نےکہا کہ” آج اگر ہم یہ کہیں کہ سرحدیں ختم ہوجائیں، یہ ایک دوسرے کوگالی دینے کے مترادف ہوگا۔ ادہر کی زمین ادہر ہی رہے اور ادہر کی ادہر ہی۔ ہم یہیں پھلیں پھولیں اور بڑہیں۔ ہم جہاں ہیں وہیں خوش رہیں۔”
انہوں نے کہا کہ انسانی مہم اور امن کے لیے آپ جب بھی ہمیں بلائینگے ہم یہاں موجود ہونگےاور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دوریاں نہ رہیں ۔ سجاد ظہیر کی بیٹی نور ظہیر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رکن ہیں وہ دوسری مرتبہ پاکستان آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سجاد ظہیر کو ادیب اور سیاستدان میں نہیں بانٹا جاسکتا۔ وہ اچھے ادیب تھے اس لیے کیمونسٹ تھے اور اس لیے اچھے انسان بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں کہ مارکسزم فرسودہ ہوگیا ہے۔اگر ایسا ہے تو کوئی یہ بتائے کہ پھر غریبوں کی بات کون کریگا،حق کی بات کون کریگا۔ بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لوگوں کے آپس میں رابطے سے ہی امن کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔ حکومتیں تو بیوقوف ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ ہر علاقہ گھوم رہی ہیں۔ " میں نے بابا پر ایک کتاب میرے حصے کی روشنائی لکھی ہے۔ اور چاہتی ہوں کہ اس میں ایک جلد پاکستان کے بارے میں ہو کہ بابا یہاں آئے، رہے سیاست کی۔ لیکن نور ظہیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں اس مرتبہ بھی صرف نو دن کا ویزا ملا ہے۔ نور ظہیر کی پیدائش سجاد ظہیر کے پاکستان سے واپس آنے کے بعد ہوئی اور جب ان کا انتقال ہوا توان کی عمر پندرہ برس تھی۔وہ بتاتی ہیں کہ اس لیے ان کے پاس انہیں دنوں کی یادیں ہیں جن کو انہوں نے کتاب میں سیمٹا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے سجاد ظہیر کے ساتھی بھارت کے نامور اداکار اے کے ہنگل نے بتایا کہ جب سجاد پاکستان آئے تو انہیں کے پاس ٹھہرے تھے۔ہنگل تب کمیونسٹ پارٹی کراچی کے سیکریٹری جنرل تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سجاد ظہیر کی گرفتاری کے بعد انہیں بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔” جب رہائی ملی تو مجھے سجاد نے پیغام بھجوایا کہ انڈیا چلے جاؤ مگر میں نے انکار کیا کہ میں یہاں پیدا ہوا ہوں، یہاں سے نہیں جاؤنگا۔ میری بات کے جواب میں سجاد نے سمجھایا کہ تم کمیونسٹ نظریے کے پیروکار ہو، جو یہاں نہیں ہے۔ تم اقلیت سے تعلق رکھتے ہو اور تم ایک حساس آرٹسٹ ہو یہ چیزیں بھی یہاں نہیں ہیں، اس لیے یہاں سے چلے جاؤ” اے کے ہنگل نے کہا کہ ”میں نے درست فیصلہ کیا اور اچھا ہوا یہاں سے چلاگیا۔ برا نہیں کیا” کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما سیتارام کا کہنا تھا کہ سجاد ظہیر کی فکر کے چار ممالک میں اثرات ہیں۔ پاکستان بنگلہ دیش اور بھارت کے علاوہ انگلینڈ میں ان کے قدردان ہیں۔ وہ ایک اچھے ادیب اور منظم سیاستدان تھے۔ انہوں نہ کہا کہ ہماری نسل جب بڑی ہوئی تو بٹوارا ہوچکا تھا۔ مگر جب تک ہندو کا ”ھ” اور مسلم کا ”م” نہیں مٹتا ”ہم” نہیں بنے گا۔اور یہ ہی سجاد نے سکھایا تھا۔ ہم مل کر چلیں گے تو آگے بڑھیں گے۔ کمیونسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش کے سکریٹری جنرل مجاہد الاسلام نے کہا کہ وہ اپنے پہلے سیکریٹری جنرل کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے ہیں۔ ان کی شخصیت سحر انگیز تھی۔ انہوں نے کہا کہ سجاد ظہیر نے جو خواب دیکھا تھا اس کے لیے ہم بنگلہ دیش میں کوشاں ہیں۔ ہمارے یہاں بھی پروگریسو رائٹرز ایک مضبوط تحریک بن کر ابھری،جس میں ان کا ہی حصہ ہے۔
بھارت کے پروگریسو رائٹرز ایسوسیشن کمل پرساد کا کہنا تھا کہ سجاد ظہیر نے کلچر اور سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔ سیاست اور ملک کو تو بانٹا جاسکتا ہے مگر سجاد ظہیر کو نہیں بانٹا جاسکتا۔ وہ دونوں مملکوں میں مقبول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سجاد نے عورت کے آنسوؤں کا ذکر کیا تو مزدور کے آنسوؤں کو بھی زیر بحث لائے۔ ”لندن کی رات” میں انہوں نے وہاں کی ایک جھلک کی عکاسی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نفرتوں کے بادل چھٹ گئے ہیں۔جن معاملات کو حکومتیں ایشو بتاتی ہیں دونوں طرف کے لوگ ان کو ایشو نہیں سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک قریبی پڑوسی ہیں۔اگر بھارت میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں بھی ہوتے ہیں۔ تھوڑے عرصے کے لیے تو ان کو دور رکھا گیا مگر فطری تقاضا ہے دونوں ممالک کے لوگ ایک ساتھ ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ عوام بڑی طاقت ہوتے ہیں، بی جی پی ایک انتہا پسند حکومت تھی مگر اس کو بھی عوام کے سامنے جھکنا پڑا تھا۔ | اسی بارے میں لاطینی امریکہ : بائیں بازو کا عروج05 March, 2005 | آس پاس فرانس: بائیں بازو کی شکست 09.06.2002 | صفحۂ اول مشترکہ بیان: بائیں بازو کا خیر مقدم15 September, 2005 | انڈیا جنوبی امریکہ: بائیں بازو کا چینل 01 November, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||