مشترکہ بیان: بائیں بازو کا خیر مقدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بائيں بازو کی جماعتوں نے ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور پاکستان کے صدر پرویزمشرف کے درمیان ملاقات کے بعد جاري کیے گئے مشترکہ بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سینئر رہنما نلوتپل باسو نے مشترکہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مثبت قرار دیا ہے ۔ بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مشترکہ بیان سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری امن مذاکرات میں مزید پیش رفت ہوگی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ بات جیت ہر حالت میں جاری رہے گی اور دہشت گردی اور تشدد کو بات چیت کے عمل میں رکاوٹ بننے نہیں دیا جائے گا۔ مسٹر باسو نے مزید کہا کہ حال ہی میں دونوں ملکوں کی جیلوں میں بند قیدیوں کو رہا کیے جانے سے ماحول اور اچھا ہوگا۔ دوسری جانب ہندوستاکے زیر انتظام کشمیر میں اس مشترکہ بیان پر ملاجلا رد عمل سامنے آیا ہے۔ جموں کشمیر کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید نے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان سے ایک بار پھر یقین ہو گیا ہے کہ دونوں رہنما مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں کافی سنجیدہ ہیں۔ لیکن جموں و کشمیر سے بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ عام کشمیریوں میں اس بیان پر ردِ عمل ملا جلا ہے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر یاسین ملک نے بیان کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ مسٹر ملک نے کہا کہ پہلے جو بیان آیا تھا اس سےمسئلہ کشمیر کے بارے میں عام کشمیریوں کی امیدیں کچھ حد تک بڑھی تھیں لیکن اس بیان نے صرف مایوسی پیدا کی ہے۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ابھی تک براہ راست کوئی بیان نہیں آیا ہے لیکن چنئی میں کل سے ہونے والی میٹنگ میں کشمیر کے حوالے سے حکومت کی پالیسی کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||