BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 September, 2005, 22:38 GMT 03:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل مشرف، من موہن سنگھ ملاقات
مسئلہ کشمیر کے حل سے جنوبی ایشیاء میں نئے دور کا آغاز ہوگا: مشرف
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارت کے وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے نیویارک میں ملاقات کی ہے جس میں کشمیر کے مسئلے کے علاوہ کئی دیگر امور پر بات چیت ہوئی ہے۔

اس ملاقات کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں کہا گیا اور میڈیا کو یہ بتایا کہ دنوں رہنماؤں کی بات چیت کے حوالے سے ایک مشترکہ بیان بعد میں جاری کیا جائے گا۔

اس ملاقات میں یہ طے پایا ہےکہ بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ جلد ہی پاکستان کا دورہ کریں گے۔

دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں اس بات عزم کیا کہ نزاعی امور کو حل کیا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن کو فروغ ہو۔

پاکستانی وفد میں جنرل پرویز مشرف کے ساتھ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکٹری طارق عزیز اور واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر جہانگیر کرامت کے علاوہ منیر اکرم اور وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری شامل تھے۔

اس ملاقات سے قبل جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ جاری مذاکرات سے جنوبی ایشیاء میں امن اور تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کشمیر کے مسئلے کا حل نکل آیا تو دنوں ملکوں کے درمیان تصادم اور کشاکش کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

صدر پرویز مشرف نے عالمی سطح پر اقتصادی ناہمواری کا خاص طور سے ذکر کیا اور کہا کہ عالمگیریت نے خوشحالی میں بھی اضافہ کیا ہے اور غریبی میں بھی۔ بین الاقوامی تجارت اور مالیات کے ضابطے غریبوں کمزوروں کے خلاف جاتے ہیں۔

صدر مشرف نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ جاری جامع مذاکرات نتیجے پر منتہج ہوں۔ ’انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو نفرت اور تاریخ اور کشاکش اور تصادم میں پھنسے نہیں رہنا چاہیئے لہذا جموں اور کشمیر کا مسئلہ منصفانہ انداز سے حل ہونا چاہیے اور اس کا حل بھارت، پاکستان اور سب سے بڑھ کر کشمیروں کو قبول ہو۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو عمومی نشستوں کی رکنیت میں کھلے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کونسل کو نئے اور خاص ارکان میں اضافے کی بنا پر نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کے حوالے سے مزید نمائندہ ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد