لاطینی امریکہ : بائیں بازو کا عروج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کی پارٹیوں کی مقبولیت سے امریکہ پریشان نہیں ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب امریکہ کی خارجہ پالیسی میں لاطینی امریکہ کو مرکزی حثیت حاصل تھی اور اس نے خطے میں کیمونزم کے فروغ کو روکنے ہر وہ اقدام اٹھایا جو اس کی دسترس میں تھا۔ اس کام کے لیے امریکہ نے لاطینی ملکوں میں ایسے ناپسندیدہ مطلق العنان حکمرانوں کی حمایت بھی کرتا رہا۔ آج کل امریکی خارجہ پالیسی مرتب کرنے والے جو ’ نیو کنزویٹو، کے نام سے جانے جاتے ہیں مشرق وسطی، چین اور کوریا میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کی جماعتیں انتخابات میں کامیابی حاصل کر رہی ہیں اور ان میں برازیل کے لولا ڈی سلوا اور وینزویلا کے ہوگو شاویز سب سے نمایاں ہیں، لیکن امریکہ کو بظاہر اس سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے۔ برازیل میں امریکہ کے سابق سفیر لنکن گارڈن کے مطابق امریکہ کو لاطینی امریکہ میں زیادہ دلچسپی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے کے بعد یورپ کے ساتھ امریکہ کے بگڑتے ہوئے تعلقات کو سدھارنے کی سب سے زیادہ فکر ہے۔ کونڈو لیزا رائس نے مشرق وسطی کے دورے بھی کیے ہیں لیکن انہوں نے لاطینی امریکہ کے کسی ملک کا دورہ کرنے کا ابھی کوئی اشارہ بھی نہیں دیا ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کیمونزم سے اب امریکہ کوئی خاص پریشانی لاحق نہیں ہے۔لاطینی ملکوں میں کیمونزم سرخ نہیں بلکہ گلابی ہے۔ امریکہ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ برازیل کے لولا ڈی سلوا کے امریکی پالیسوں کی مخالفت میں بیانات کی کوئی حثیت نہیں ہے کیونکہ ان ملکوں کی معیشت کا زیادہ دارومدار امریکہ پر ہے۔
امریکہ لاطینی ملکوں کے ایسے ملکوں کو اقتصادی امداد بھی دیتا ہے جو امریکہ کی حمایت کرتے ہیں اور جمہوری اصلاحات کی راہ پر گامزن ہیں۔ لاطینی ملکوں کی بائیں بازو کی حکومتوں کے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں لیکن ان ملکوں میں عوام امریکہ کے خلاف ہیں۔ اس خطے میں امیر اور غریب میں فرق بڑھتا جا رہا ہےاور لاطینی عوام کا خیال ہے کہ ان کی غربت میں امریکی پالیسیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ لاطینی ملکوں میں وینزویلا میں امریکہ کے خلاف سب سے زیادہ نفرت پائی جاتی ہے اور وہاں کے صدر ہوگو شاویز نے امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس کو مروانے کی سازش کر رہا ہے۔ امریکہ نےہوگو شاویز کے الزامات کو جھوٹا اور مضحکہ خیز قرار دیا۔ اس کے باوجود امریکہ آج بھی وینزویلا کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ لاطینی ملکوں کے بائیں بازو کی جماعتوں میں ایک قدر مشترک ہے وہ ہے کیوبا کے معمر لیڈر فیڈرل کاسترو سے قریبی تعلقات جو کہ امریکی ناراضگی کا باعث ہے۔ اگر فیڈرل کاسترو کو کچھ ہوا تو امریکہ اور اس کے لاطینی ہمسایوں میں تعلقات پر برا اثر پڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||