27 سالہ وندنا، 65 سالہ گردھاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نہ عمر کی سیما ہو نہ جنم کا ہو بندھن جب پیار کرے کوئی تو دیکھے کیول من یہ غزل تو برسوں پہلے گائی گئی لیکن اس کا ہر لفظ ستائیس سالہ و ندنا شرما کے لیے حقیقت ثابت ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہےکہ وندنا نے اپنے پینسٹھ سالہ عاشق کی محبت حاصل کرنے کے لیے زمانے کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ معاملہ ہے ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی سرمائی دارالحکومت جموں سے تقریبا پچیس کلومیٹر دور بشنا گاؤں کا۔ وندنا نے اپنی محبت کا علان اس وقت کیا جب اس کے والدین نے اس کی محبت کی مخالفت کی اور اسے گھر کے ایک کمرے میں نظربند کر دیا- وندنا ایک گریجویٹ ہونے کے ساتھ ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر بھی ہیں۔ وہ اپنے ہی گاؤں کے پینسٹھ سالہ گردھاری لال کے عشق میں گرفتار ہوگئی ہیں اور عمر ميں فرق دونوں کی شادی کے بیچ رکاوٹ کا سبب بن گیا ہے۔ وندنا نے ریاست کے چیف جسٹس کو ایک خط لکھا اور ان سے یہ درخواست کی ہے کہ انہيں اپنے والدین کی 'قید' سے آزاد کرایا جائے- وندنا نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ’میں ایک پڑھی لکھی اور بالغ لڑکی ہوں لیکن میرے والدین مجھے میری پسند کے شخص سے شادی کرنے سے روک رہے ہیں اور مجھے جبرا گھر میں قید کر کے رکھا گیا ہے۔‘ خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا تھا کہ گردھاری لال، جن کی عمر پینسٹھ سال ہے وہ بھی وندنا سے محبت کرتے ہيں اور دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں- عدالت نے خط کو ایک درخواست کا درجہ دیتے ہوے ریاستی پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ لڑکی کو عدالت میں پیش کرے تا کہ کیس کی سماعت ہو سکے- معاملے میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب وندنا کو عدالت میں پیش کیا گیا- لڑکی نے عدالت میں کہا کہ وہ اب اپنے ماں باپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ہے- اس پر عدالت نے اسے ’ناری نکیتن‘ یعنی خواتین کے آشرم میں رکھنے اور اگلی تاریخ پر گردھاری لال کو عدالت میں پپیش کرنے کا حکم دیاہے۔ دوسری جانب لڑکی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وندنا اپنا ذ ہنی توازن کھو چکی ہے یا پھر اس پر کسی نے جادو ٹونہ کر دیا ہے۔ وندنا کے والد کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل وہ وندنا کو گردھاری لال کے یہاں علاج کے لیے لے گئے تھے۔ انہوں نے بتایا: ’ کافی دنوں تک وندنا کا علاج یہ تانترک گردھاری لال کرتا رہا، اسی دوران دونوں ایک دوسرے کے نزدیک آئے۔ ہمیں تو اس بات کا علم با لکل نہيں تھا۔ جب ایک مقامی اخبار نے وندنا کا خط شائع کیا اس وقت ہی ہمیں پتہ چلا۔‘ گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ گردھاری لال پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور اس کی بیوی اسی گاؤں میں رہتی ہے ۔ان کے مطابق گردھاری اب گاؤں چھوڑ کر جا چکا ہے ’جب سے یہ معاملہ سامنے آیا ہے تبھی سے گردھاری گھر نہیں آیا۔‘ | اسی بارے میں عیسائی بالی وُڈ سے ناراض21 February, 2005 | فن فنکار پاکستانی کرکٹر، بھارتی داماد28 March, 2005 | کھیل پاکستان، انڈیا، جنگ اور محبت30 March, 2005 | Debate آرٹ گیلری: ننگوں کے لیے داخلہ مفت31 July, 2005 | فن فنکار شیکسپیئر اِن کابل10 September, 2005 | فن فنکار محبوب کیلیےقربانی، بڑے بھائی سےشادی13 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||