 |  سینکڑوں لوگوں نے کپڑے اتار دیئے لیکن زیادہ تر نے کچھ نہ کچھ پہنے رکھا |
آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایک معروف آرٹ گیلری نے مصوری کے شائقین سے کہا ہے کہ عریاں یا کم سے کم کپڑوں میں آنے والوں سے پیسے نہیں لیے جائیں گے۔ لیوپولڈ عجائب گھر نے یہ رعایت ابتدائی بیسویں صدی کی اشتہا انگیز مصوری کی ایک نمائش دیکھنے کے لیے آنے والوں کے لیے رکھی ہے۔ سینکڑوں لوگوں نے اس پیشکش کا فائدہ اٹھایا اور عریاں یا برائے نام کپڑے پہن کر نمائش دیکھی۔ نمائش کا عنوان ’دی نیکڈ ٹرتھ‘ ہے۔ عجائب گھر کی بانی ایلزبتھ لیوپولڈ نے کہا تھا کہ ننگا جسم بھی اتنا ہی خوبصورت ہوتا ہے جتنا کپڑوں سے ڈھکا ہوا۔ عجائب گھر کے ایک منتظم نے کہا وہ لوگوں کو سخت گرمی کی لہر کے دوران راحت پہنچانا چاہتے تھے۔ آسٹریا میں اس بار غیر معمولی طور پر درجہ حرارت تیس ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو عریاں نمائش دیکھنے کی دعوت دے کر غیر یقینی کیفیت کا ویسا ہی ماحول پیدا کرنا چاہتے جیسا ان اشتہا انگیز تصاویر کی پہلی بار رونمائی کے وقت معاشرے میں پیدا ہوا ہوگا۔ نمائش دیکھنے کے لیے آنے والی ایک بیس سالہ لڑکی نے کہا کہ ’یہ کونسی ایسی بڑی بات ہے، ہم دنیا میں ننگے آئے اور کبھی کبھار اس میں بغیر کپڑوں کے کیوں نہیں پھرا جا سکتا؟‘ |