BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 July, 2005, 08:28 GMT 13:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آرٹ گیلری: ننگوں کے لیے داخلہ مفت
مصوری کے شائقین
سینکڑوں لوگوں نے کپڑے اتار دیئے لیکن زیادہ تر نے کچھ نہ کچھ پہنے رکھا
آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایک معروف آرٹ گیلری نے مصوری کے شائقین سے کہا ہے کہ عریاں یا کم سے کم کپڑوں میں آنے والوں سے پیسے نہیں لیے جائیں گے۔

لیوپولڈ عجائب گھر نے یہ رعایت ابتدائی بیسویں صدی کی اشتہا انگیز مصوری کی ایک نمائش دیکھنے کے لیے آنے والوں کے لیے رکھی ہے۔ سینکڑوں لوگوں نے اس پیشکش کا فائدہ اٹھایا اور عریاں یا برائے نام کپڑے پہن کر نمائش دیکھی۔ نمائش کا عنوان ’دی نیکڈ ٹرتھ‘ ہے۔

عجائب گھر کی بانی ایلزبتھ لیوپولڈ نے کہا تھا کہ ننگا جسم بھی اتنا ہی خوبصورت ہوتا ہے جتنا کپڑوں سے ڈھکا ہوا۔

News image
عجائب گھر کے ایک منتظم نے کہا وہ لوگوں کو سخت گرمی کی لہر کے دوران راحت پہنچانا چاہتے تھے۔ آسٹریا میں اس بار غیر معمولی طور پر درجہ حرارت تیس ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو عریاں نمائش دیکھنے کی دعوت دے کر غیر یقینی کیفیت کا ویسا ہی ماحول پیدا کرنا چاہتے جیسا ان اشتہا انگیز تصاویر کی پہلی بار رونمائی کے وقت معاشرے میں پیدا ہوا ہوگا۔

نمائش دیکھنے کے لیے آنے والی ایک بیس سالہ لڑکی نے کہا کہ ’یہ کونسی ایسی بڑی بات ہے، ہم دنیا میں ننگے آئے اور کبھی کبھار اس میں بغیر کپڑوں کے کیوں نہیں پھرا جا سکتا؟‘

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد