مصوری میں غزہ کے روز و شب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک نوجوان فلسطینی مصور غزہ کی پٹی میں جاری تنازعے کی عکاسی سے وسیع تر حلقے میں رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں غزہ کا امیج جتنا خراب ہے اس سے زیادہ خراب شاید ہی ہو سکتا ہے۔ ذرا سوچیں، آپ کے ذہن میں غزہ کی کیا تصویر بنتی ہے: جنازوں اور تابوتوں کے ساتھ بازو لہرا لہرا کر نعرے لگاتے ہوئے لوگوں کی شعلہ بار آنکھیں، یہ جنازے کسی کے بھی ہو سکتے ہیں۔ حماس کے رہنماؤں کے یا انہیں نشانہ بنائے جانے کے دوران زد میں آنے والے عام لوگوں کے، عورتوں، بچوں اور بڑوں کے، کسی کے بھی۔ نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ میں جتنے بھی نوجوانوں سے بات کی ہے ان میں ہر چوتھا نوجوان فلسطینی جدو جہد میں جان دینے کے لیے تیار ہے۔ ان میں ہر نوجوان یہ بات جانتا ہے کہ اسے اسرائیل کا مقابلہ کرنا ہے اور یہ بھی کہ ان کے پاس تشدد کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔ حالیہ انتفادہ کی شروعات کے بعد گزشتہ مئی کا مہینہ غزہ میں خوں آشامی کے اعتبار سے بد ترین تھا۔ مئی کے دوران صرف رفاہ ہی کے پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی افواج نے ساٹھ سے زائد افراد کو موت کی گھاٹ اتارا اور ان گنت گھروں کو بلڈوزروں سہ مسمار کیا گیا۔
اسرائیلی فوجی بار بار اس علاقے سے گزرتے ہیں اور ہر بار ان کی آنکھیں حماس یا اسلامی جہاد کے بندوق برداروں کو تلاش کرتی رہتی ہیں۔ ان میں کچھ اسرائیلی اپنے اندر دشمنی کے بدترین جذبات بھی چھپائے ہوتے ہیں۔ لیکن نوجوان فلسطینی مصور حازم حرب رفاہ سے ابھرنے والی تصویروں کو قدرے مختلف انداز سے دیکھتا ہے۔ وہ اپنی پسندیدہ اداس مصری موسیقی لگاتا ہے اور اور اس کے ہاتھ کینوس پر رنگوں اور برش کے ساتھ حرکت کرنے لگتے ہیں۔ اس کا کہنا ہے ’میں برش اٹھاتا ہوں اور گہرے رنگوں کا انتخاب کرتا ہوں اور اس لمحے میں پہنچ جاتا ہوں جب سب کچھ میرے سامنے ہونے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے میری تصویروں کے خطوط نمایاں ہوتے ہیں اور ان میں ایک ڈرامہ ہوتا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے ’رفاہ پر جو گزر رہی ہے وہ انتہائی ہولناک ہے۔‘ حازم نے عریاں عورتوں کی ایک ایسی سیریز مصور کی ہے جن میں بہت سی حاملہ بھی ہیں لیکن ان تمام کے جسے مسخ شدہ ہیں ایسا لگتا ہے جیسے ان کے نازک نشیب فراز والے جسموں سے سر قلم کیے گئے ہوں۔ حازم کا کہنا ہے کہ انہوں نے رفاہ لوگوں کے اس دکھ کی عکاسی کی ہے جو ان کا مقدر بن چکا ہے۔ حازم کی تمام ہی تصاویر میں فلسطینی جد و جہد کا پہلو نمایاں ہے اور اس کی وجہ بھی ہے کہ حازم غزہ ہی کے ایک مفلس علاقے میں پروان چڑھا ہے۔
چوبیس سالہ حازم کہتا ہے: ’فلسطینی ہونے کا مطلب ہے کہ آپ تنازعہ کا حصہ ہیں، یہ تنازعہ میرے کام میں موجود ہے کیونکہ یہی تنازعہ جس کے دکھ سے ہمارے روز وشب بنتے ہیں۔‘ وہ کہتا ہے کہ اس کے تمام تصویروں وہ دکھ ہے جو غزہ کی زندگی کے چاروں طرف بکھرا ہوا ہے۔ اس کی تجریدی یا ایبسٹریکٹ تصویریں بھی احساسِ زیاں اور مایوسی سے بھری ہوئی ہیں ان تصویروں میں برقعہ پوش عورتیں بھوتوں کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔
ان تصویروں میں شکستہ زینے ہیں جو اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اب فلسطینیوں کے لیے اس زندگی سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔اور شاید ان کا سب سے زیادہ بھر پور اظہار بیضوی چہروں والی سیریز ہے کیونکہ اس سیریز کے ہر چہرے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی نچوڑ لی گئی ہو۔ اور یہ تصویرں سچی ہی ہیں کیونکہ ان کا مصور اس بات کو جانتا ہے ’ میری تصویروں میں دکھ اور المناکی ہے اور اس لیے ہے کہ میں ایک ایسی جگہ رہتا ہوں جہاں ہر طرف جنگ ہے اور زندگی اور موت کی کشاکش روزمرہ کا حصہ ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||