رفیع پیر تھیٹر، ایک ثقافتی تحریک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پتلی تماشوں اور تھیٹر کے حوالےسے معتبر گھرانے رفیع پیر سے وابستہ تین فنکار بھائیوں عثمان، فیضان اور سلمان پیرزادہ نے کراچی میں میڈیکل کے طالبعلموں کواپنی آرٹ کی جستجو اور دریافت کےتخلیقی سفر کی داستان سناتے ہوئے پاکستان میں پُتلی تماشے، تھیٹر اور فلم کی نام نہاد وسعت کا تفصیلی نقشہ کھینچا۔ رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ کو پہلی مرتبہ آغا خان میڈیکل یونیورسٹی نےاپنے خصوصی لیکچر کے لیے کراچی مدعو کیا تھا جہاں کے فرانسیسی ثقافتی مرکز سے پیرزادہ برادرز نے پاکستانی آرٹ میں پتلی تماشا کی تحریک شروع کی تھی اور جہاں تقریباً پندرہ برس بعد وہ یوتھ تھیٹر فیسٹیول منعقد کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان میں اپنی ورکشاپ کے تخلیقی سفر کی بازیافت کرتے ہوئےاستاد پُتلی گر فیضان پیرزادہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معتدل شناخت یعنی صدر پرویز مشرف کے بقول سوفٹ امیج تکنیکی اعتبار سے انیس سو چورانوے میں اس وقت ابھرنا شروع ہوا جب ان کے گروپ نے ملک میں دنیا کے سب سے بڑے پُتلی تماشا فیسٹیول کا لاہور میں انعقاد کیا۔ پاکستان میں پُتلی گھر یعنی پُتلیوں کے میوزیم کے بانی فیضان پیرزادہ کے مطابق انیس سو بانوے میں پہلے پُتلی تماشا فیسٹیول کے لیے تقریباً پچیس ہزار خطوط دنیا بھر میں اسّی سے زائد ممالک کی کمپنیوں کو ارسال کیے گئے تھے جس کےامید افزا جوابات کے بعد فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کے لیے چالیس لاکھ روپے جمع کیے گئے۔ فیضان پیرزادہ نے کہا کہ پاکستان میں اب تک رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ کے تحت ہونے والے مختلف فیسٹیول میں ملک کے فنکاروں کو مختلف زبانوں، شبیہوں اور شکلوں کے ذریعہ سیکھنے کے ایک سے زائد سنہری مواقع ملے اور اس کی بدولت ملک میں آرٹ اور تھیٹر سے وابستہ فن کی ترویج ہوئی اور فنکاروں کو حوصلہ ملا۔ عثمان پیرزادہ نے اپنی بین الاقوامی ایوارڈز یافتہ فلم زرگل کے دو ویڈیو ساؤنڈ ٹریک بھی آغا خان یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ کو دکھائے۔ اس فلم کو کچھ خاص وجوہات کی بنا پر پاکستان میں نمائش کے لیے پیش نہیں کیا جا سکا تھا۔ اس موقع پر عثمان کا کہنا تھا کہ رفیع پیر تھیٹر کا مقصد ایک ایسی ثقافتی تحریک پیدا کرنا ہے جو تقریر اور تعلیم کی آزادی کی عکاس ہو اور ایک ایسا مقامی سینما یا تھیٹر تشکیل دینا ہے جو آزادئ اظہار کو پروان چڑھائے۔ عثمان پیرزادہ نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نوکر شاہی تھیٹر کے فروغ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جو اٹھارہ سو چھیاسٹھ کے برطانوی قانون کے تحت کسی بھی آرٹ کے مظاہرہ کی بابت ہدایت کار سے’ کوئی اعتراض نہیں‘ کی سند کا مطالبہ کرتی ہے جو کہ بیشتر صورتوں میں سنسر کے بعد دیا جاتا ہے۔
سلمان پیرزادہ نے بتایا کہ ان کا گروپ حاضرین کو دوسری بہترین صلاحیتیں اور ثقافتیں سامنے لا کرانہیں دیگر متنوع ثقافتوں کے بارے میں باخبر رکھتا ہے ان کے مطابق متنوع ثقافتوں کے ملاپ سے نئے خیالات جنم لیتے ہیں، نفرتیں ختم ہوتی ہیں اور خوشگوار تاثر نمایاں رہتا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کے صدر شمس قاسم لاکھا نے اپنے ابتدائی کلمات میں رفیع پیر گھرانہ کوایک عظیم فنکار گھرانہ سے تعبیر کیا جس نے بین الاقوامی ثقافتی نقشے پر پاکستان کا نام کندہ کرنے میں مدد دی ہے۔ شمس قاسم لاکھا نے کہا کہ’ رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ یقیناً ملک کا واحد تھیٹر گروپ ہے جو دنیا بھر کے ثقافتی گروہوں کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے جن کی پوری دنیا تھیٹر اور پرفارمنگ آرٹ پر مبنی نظر آتی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کو دینے کے لیے بہت کچھ ہے اور بدقسمتی سے اس میدان میں اس کے اپنے لوگ تنگ نظری اور مقابلے کی ضروریات کے باعث علمی رکاوٹ ہونے کے باعث پس منظر میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک قوم کی ثقافت دوسری ثقافتی کے ساتھ مل کرہی نکھرتی ہے۔ آغا خان یونیورسٹی اپنے خصوصی لیکچر سیریز میں اس سے قبل اردن کے شاہ حسن، مشہور مورخ اسٹینلے وولپرٹ، اداکار اور نظم گو ضیا محی الدین، سابق وزیرِ خارجہ صاحبزادہ یعقوب خان، بین الاقوامی شہرت کے حامل مصور گل جی اور برطانیہ میں پاکستان کی ہائی کمشنر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کو مدعو کر چکی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||