میں غائب کر دیا جاتا ہوں: سرمد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سوال: آپ کے جاننے والے اور آپ کے کام میں دلچسپی رکھنے والے کہتے ہیں کہ آپ ایک کام شروع کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں؟ سرمد صہبائی: پنجابی میں آپ نے سنا ہو گا کہ ایک چیز ہوتی ہے جسے چھلیڈو (چھلاوہ) کہتے ہیں جسے انگریزی میں کمیلین اور یونگ نے نفسیات کی زبان میں اسے ڈکسٹر کہا ہے کہ وہ تھوڑی دیر کو دکھائی دیتا ہے اور پھر غائب ہو جاتا ہے۔ لیکن میرا مسئلہ یہ نہیں ہے، میں مرکزی منظر سے اس لیے غائب ہوتا ہوں کہ مجھے مرکزی منظرنامے سے نکال بھی دیا جاتا ہے میرا مطلب ہے کہ آئی سو لیٹ کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں تو اپنا کام کرتا رہتا ہوں اور جب کہیں مجھ سے کچھ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے تو میں پھر سامنے آ جاتا ہوں اور کام کرنے لگتا ہوں۔ سوال: گزشتہ دس ایک سال کے دوران یا اس سے کچھ زیادہ عرصے سے میڈیا کی انٹرٹین منٹ کے سارے بزنس کی جو پرائیویٹائزیشن یا نجکاری شروع ہوئی ہے اور اس کے بعد جو تبدیلیاں آئی ہیں ٹی وی میں بھی اور فلم میں بھی اور تھیٹر میں بھی تو اس میں کچھ لوگوں کا کہنا یہ ایک مثبت تبدیلی ہے اور اس سے بہت سے نئے لوگ آئے ہیں لیکن کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے ولگرائزیشن یا پلگرائیزیشن ہوئی ہے تو آپ اس سارے عمل کو کیسے دیکھتے ہیں؟ س ص: ان بہت سارے چینلوں میں اگر آپ غور سے دیکھیں تو ملٹی نیشنل سرگرم ہیں اور آپ بہت سی سپانسر شپ ان پراڈکٹس یا مصنوعات کی دیکھ سکتے ہیں، خاص طور پر پاپ میوزک میں اور ویسٹرن لبرل ازم میں انہوں نے سرمایہ کاری کی ہے۔ باقی سوپ اوپرا پر بہت زیادہ زور ہے۔ تو کوانٹٹی ہے اور کوانٹٹی میں کبھی کبھی کوالٹی آنے کا بھی امکان ہوتا ہے۔ تو ایک چینل کی نسبت ملٹیپل چینل کا ہونا اور اس میں تجربات کا ہونا اور لوگوں کا تخلیقی عمل کے لیے لڑنا مرنا ہو تو اس میں کسی سپارک یا کسی دلچسپی رکھنے والی چیز کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ جو ابھی تک تو نہیں دکھائی دی لیکن ممکن ہے اور ہو سکتی ہے۔ سوال: لیکن اس پرائیویٹائیزیشن سے بھی تو کچھ پری ریکیوزت آ گئی ہیں اور پرائیویٹ پروڈکشن میں آپ کو کچھ ایسے لوازمات کا اہتمام کرنا پڑ جاتا ہے جس کا تخلیقی سطح پر اثر پڑتا ہے اور کچھ پابندیاں عائد ہوئی ہیں؟ س ص: بہت زیادہ، بہت زیادہ، یعنی اب سیاسی پابندیاں تو اتنی نہیں ہیں لیکن دوسری پابندیاں بہت زیادہ ہیں کہ مثلاً آپ اس ایکٹر کو بک کریں جس کی مارکیٹ ہے، آپ ایسی کہانی لائیں جو کلائنٹ کی مرضی کی ہے، تو اس طرح کی بہت سی چیزیں ہیں جو پابند بناتی ہیں اور رسٹرکٹ کرتی ہیں لیکن فنکار اور تخلیق کار تو روزِ اوّل سے ہی پابندیوں میں رہے ہیں کبھی یہ پابندیاں اخلاقی ہوتی ہیں، کبھی معاشرتی ہوتی ہیں یا وہ سیاسی یا معاشی ہوں اور اس کے علاوہ سیلف فارم بھی ایک پابندی ہے جس سے لڑتا رہتا ہے تخلیقی آدمی۔
سوال: اگر فلم کے حوالے سے بات کریں تو آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے فلم کے سٹرکچر سے ٹی وی پر بہت فائدہ اٹھایا اور فنکار گلی بھی اسی نوع کا ایک کام ہے اور اب بہت لوگ آ گئے ہیں اور وہ الگ طرح کا کام کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں اور فیسٹیول بھی بہت ہونے لگے ہیں اور مین سٹریم سے ہٹ کر بھی کام ہو رہا ہے فلمی میلوں کا انعقاد بھی زیادہ ہونے لگا ہے تو آپ بھی اس سارے کام سے منسلک ہیں تو آپ اسے کیسے دیکھتے ہیں؟ س ص: کبھی کبھی تو یہ بہت فرسٹریٹنگ تجربہ ہوتا ہے کہ بہت سے ملکوں کی فلمیں آ رہی ہیں اور آپ طرح طرح کی فلمیں دیکھ رہے ہیں اور آپ کے ملک سے بھی فلمیں ہیں لیکن شارٹ فلمیں ہیں اور کوئی بھرپور فلم نہیں ہے کوئی بڑی ڈاکومنٹری نہیں اور پاکستان میں تو آپ کو پتہ ہے کہ فلم کے امکانات ویسے ہی کم ہیں، پاکستان میں سٹوڈیوز وغیرہ کا جو حال ہے اس سے تو اس بات کا امکان ہے کہ بہت جلد سب زوال پذیر ہوجائے گا۔ مثلاً اگر ہندوستان کی فلمیں آنا شروع ہو جاتی ہیں اور انڈیا سے کولیبوریشن شروع ہو جاتا ہے تو انڈیا کی فلم انڈسٹری ایسی ہے کہ وہ آسانی سے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو اپنے اندر جذب کر سکتی ہے۔ سوال: اب آپ نے انڈیا کی بات کی ہے تو تعاون تو ناگزیر دکھائی دیتا ہے تو اس کا کیا اثر پڑے گا فائدہ ہو گا یا نقصان پہنچے گا؟ س ص: نقصان کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔ انڈیا کی فلم انڈسٹری ٹیکنیکلی زیادہ ایڈوانس ہے اور ہر قسم کی آڈینس ہے تو ہر قسم کی فلم بنانے کی پاسبیلیٹی پیدا ہو گی، انٹلیکچؤل اور آرٹ فلم کی بھی آڈینس ہے تو امکانات بڑھیں گے، بولی وڈ کی بڑی فلموں کے بھی امکانات ہیں تو اگر پاکستان بڑی فلمیں بناتا ہے اور اچھی فلمیں بناتا ہے تو اسے تو ایک بہت بڑی مارکیٹ ملتی ہے۔ اس کا اندازہ آپ موسیقی سے کر سکتے جب مہدی حسن تھے، نصرت فتح علی تھے اور غلام علی کے ہوتے ہوئے تو انڈیا کی مارکیٹ بہت بڑی ہے لیکن کیونکہ معاملہ لیگلائزڈ نہیں تھا تو ادھر بھی پائریسی تھی اور ادھر بھی پائریسی سے کام چل رہا تھا تو بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ سوال: اب بیکن ہاؤس نے فلم سازی پڑھانے کا کام شروع کیا ہے اور این سی اے میں بھی فلم پڑھائی جانے لگی ہے تو آپ کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟ س ص: کچھ نہ ہونے سے تو بہتر ہے۔ یہ وہ قدم ہے جو بہت پہلے لیا جانے والا تھا اب جب کہ انڈسٹری کولیپس کر رہی ہے تو بنیادی طور پر یہ فلم سے زیادہ چینلز کے لیے ہے۔ چینلوں کو ضرورت ہے پروڈیوسروں اور ڈائریکٹروں کی، لیکن مجھے پاکستان میں فلم کا زیادہ مستقبل نظر نہیں آتا۔ ایک بھرپور ادارہ ہو اب کراچی میں ضیا محی الدین نے بھی ایک ادارہ شروع کیا ہے پرفارمنگ آرٹس کا لیکن اس کے علاوہ بھی کچھ چاہیے ہوتا ہے ایک ایتھوس سا ایک رچاؤ سا جو پورے معاشرے میں ہوتا ہے۔ آرٹ کے بارے میں کلچر کے بارے میں میوزک کے بارے میں، ابھی کیونکہ ویژول کو ہی تسلیم کیا گیا یعنی کے باڈی کنٹرول بہت زیادہ ہے۔ ڈانس وغیرہ یا پینٹنگ کا اتنا رچاؤ نہیں ہے۔ سوال: آپ نے بھی ابھی کہا کہ پاکستان میں فلم سازی کا امکان نہیں ہے اور بہت سے لوگ بھی کہتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے کیا کہانی نہیں ہے یا؟ س ص: صرف کہانی کا معاملہ نہیں ہوتا اور بہت سی ضروریات ہوتی ہیں فلم کے لیے ایکٹر ہوتے ہیں ڈائریکٹر ہوتا ہے، فوٹوگرافی ، لائٹنگ اس کی پراسسنگ بھی ایک انتہائی اہم چیز ہے، تو ایک بھرپور چیز بنانے کا ماحول، میرا مطلب ہے کہ اگر کہانی ہے تو اداکار تو پرفارمنس نہیں ہوتی، اداکاری ہے تو پروڈکشن ٹھیک نہیں ہے۔ وہ جو ایک معاشرے کا فطری پن ہوتا ہے فلم کے لیے وہ معاشرتی فطری پن پیدا نہیں ہو سکا ہمارے ہاں۔ اسے باہر دھکیل دیا گیا ہمارے ہاں، وہ کمرشل تھیٹر میں چلا گیا ہے اور لوگوں نے سنیما ہال توڑ کر تھیٹر بنا لیے ہیں۔ غزل دشت میں ہے ایک نقشِ رہگزر سب سے الگ چلتے چلتے وہ بھی آخر بھیڑ میں گم ہو گیا بند ہیں گلیوں میں گلیاں ، ہیں گھروں سے گھر جدا سب کی اپنی منزلیں تھیں سب کے اپنے راستے کافی اپنی نیند ادھوری تیرے تن کا کیسر مہکے خوشبو اڑے ادھوری سائیں سزا جزا مالک کا حصہ ، بندے کی مزدوری سائیں تیرا کبر تری یکتائی ، اپنا من منصوری سائیں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||