جب اپنی باری آئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں اس نسل کا حصہ ہوں جو اُس پروپیگنڈے پر اٹھی ہے جس کے سود پر پاکستانی فوجیوں کے، سپاہی سے جنرل تک کے گھر اور حلوے مانڈے چلتے ہیں۔جنہیں اِس خوف کی گُھٹی دی گئی کہ اگر فوج نہیں ہوگی تو ہندو اور سکھ آ جائیں گے اور ہماری بہنوں، ماؤں اور بیٹیوں کو اٹھا لے جائیں گے۔ شاید اسی پروپیگنڈے کا اثر تھا کہ جب پاکستان کے سورما مشرقی پاکستان میں بنگالی عورتوں، گھروں، بستیوں، ادیبوں، دانشوروں اور صحافیوں کو ہر طرح پائمال کر رہے تھے تو مغربی پاکستان کی ننانوے اعشاری نو فی صد اکثریت ان پر داد و تحیسین کے ڈونگرے برسا رہی تھی اور ان کی فتح مندی کی دعائیں مانگ رہی تھی اور ایک بھی اخبار ایسا نہیں تھا جس نے اس قیامت و غیر انسانیت پر آواز اٹھائی ہو۔ اور تو اور ادب، فلم اور سٹیج نے تو اب تک اس سانحے سے انصاف نہیں کیا۔ شاید فوج اور اجتماعیت کی نفسیات کا خوف اب تک رکاوٹ ہے۔ ہم نے یحیٰ خانی دور میں مشرقی پاکستانیوں پر ٹوٹنے والی قیامت پر خاموشی اختیار کی، ہم نے بھٹو دور میں بلوچوں پر فوج کشی پر چپ سادھے رکھی لیکن جب ضیالحقی دور میں سندھیوں اور پنجابیوں کی باری آئی تو ہمارے قلم اب تک خون کے آنسو روتے ہیں کیوں ایسا ہے کہ اب زندگی کے جس بھی شعبے کو ذرا سا کریدیں اس میں گیارہ سالہ ضیاالحقی آمریت کی مزاحمت کرنے اور اس کی وجہ سے عذاب اٹھانے کے دعویداروں کی ان گنت تعداد دکھائی دیتی ہے۔ (کبھی کبھی سوچتا ہوں ان کے ساتھ کیا فوج نے وہی کیا ہے جو مشرقی پاکستانیوں اور بلوچوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔) اس میں پیش پیش کون ہے اور کیوں ہے اس سے قطع نظر تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ضیاالحقی اسلام اور آمریت میں جو کچھ سندھ کے ساتھ ہوا وہ کسی اور صوبے کے ساتھ نہیں ہوا لیکن اس کا ثواب لینے میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس زمانے سے اب تک سرکاری نوکریاں با ترقی کیں اور کر بھی رہے ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ نہیں ہے میری روح کے وہ زحم ہیں جو بھر کے نہیں دیتے۔ یہ ساری باتیں مجھے اس دوران مسلسل یاد آ تی رہیں جب لندن میں سنیہا کا تین روزہ فیسٹیول ہو رہا تھا۔اس فیسٹیول کے پہلے روز دو ڈرامے کیے گئے، ایک فلم دکھائی گئی اور ایک مباحثہ ہوا۔
ڈرامے سرمد صہبائی اور نجم حسین سید کے تھے اور فلم فرجاد نبی کی، کوئی بھی پروفیسر پر یقین نہیں کرتا، تھی۔ فرجاد کی فلم کو 2003 میں کھٹمنڈو میں جنوبی ایشا کی بہترین فلم قرار دیا جا چکا ہے اور وہ لایعنیت کی حدوں کو چھوتی ہوئی ایک اچھی کوشش تھی۔ سرمد کے ڈرامہ طوطا راما، اور نجم حسین سید کا شیش محل دی وار دونوں کا وقت ایوبی عہد سے ضیائی آمریت تک کا زمانہ ہے۔ خاص طور پر نجم حسین کا ڈرامہ۔ جب کہ سرمد کا ڈرامہ گریز و انکار کی گنجائش رکھتا ہے لیکن اس میں شرعی لاقانونیت اور غیر انسانی تشریحات کو معاشرتی مضحکہ خیزی سے ملا کر وسیع تر واقعاتی کولیج بنایا گیا ہے۔ سرمد کا ڈرامہ ربیکا مینسن جونز کی ہدایات میں اور نجم کا ڈرامہ ڈومینک رائے اور فرحان مقصود کی ہدایات میں پیش کیا گیا دونوں ڈرامے سٹریٹ تھیٹر اور سٹیج تھیٹر میں استعمال کی جانے والی تکنیکوں کا ایک نیا اتصال تھے اور ان میں حادثاتی طور پر بریختین تکنک کا ایک نیا امکان بھی اجاگر ہوا۔ لیکن دونوں ڈرامے کامیاب تھے پروڈکشن کے اعتبار سے بھی اور اداکاری کے اعتبار سے بھی کیونکہ ان کے لکھنے والوں کے سوا تمام کے تمام اداکار مقامی تھے یا مقامی ہو چکنے والے تھے۔ سرمد کا ڈرامہ انگریزی میں کیا گیا اور نجم حیسن کا پنجابی میں اور اس کے سب ٹائیٹل پس منظر میں سکرین پر دکھائے گئے۔ فیسٹیول کے پہلے دوسرے اور تیسرے دن چار فلمیں دکھائی گئیں ان میں پہلی کوئی پروفیسر پر یقین نہیں کرتا ، فرجاد نبی کی تھی دوسری سرمد صہبائی کی، فنکار گلی، تیسری فیضان پیر زادہ کی لاٹو اور چوتھی تھی مغلز آف دی روڈ ۔ ان چاروں میں آخری دو دستاویزی تھیں اور پہلی دو نہ پوری طرح دستاویزی نہ پوری طرح فیچر۔
مغلز آف دی روڈ کے تینوں فلموں کا موضوع سیاسی، معاشرتی اور مذہبی و جغرافیائی پابندیاں تھا اور منظر نامہ پاکستان سرمد کی فلم کامیابی اور ناکامی کے درمیان ہے اور اگر یہ سرمد کی نہ ہوتی تو وہ اسے ایک تہایی سے زیادہ تم کر دیتے۔ سرمد نے اسے بنانے سے پہلے دیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی کی وجہ سے یا مالی مشکلات کے نتیجے میں پیفا ہونے والی لاتعلقی کی وجہ سے؟ پتہ نہیں۔ فیضان پیرزادہ کی فلم میں رقص کرنے والے فنکاروں پر سیاسی اور معاشرتی پابندیوں کو موضوع بنایا گیا تھا اور اس میں اندو مٹھا اور شیما کرمانی ان سوالوں پر تفصیلی اظہار ِ خیال کرتی ہیں جن کا انہیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً یہ کہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ ناچتی کیوں ہیں اور ناچتی ہیں تو بھارت ناٹیم کیوں؟ ان پر بھارتی ثقافت کو فروغ دینے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ مغلز آف دی روڈ میں پاکستان کی سڑکوں پر دوڑتے پھرتے فن کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس میں وہ ٹرک اور دوسری گاڑیاں دکھائی گئی ہیں سجاوٹ اپنی جگہ ایک فن پارے کی حیثیت رکھتی ہے لیکن کچھ عرصے پہلے تک اسے کبھی اس نظر سے نہیں دیکھا گیا تھا۔ پلوی شیما کرمانی سے کی جانے والی توقعات کے مطابق تھا، شیما پاکستان کی وہ غیر پیشہ ور رقاصہ ہیں جنہیں نہ صرف پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش خاصا جانا جاتا ہے بلکہ این جی اوز کا عالمی سرکل بھی ان سے بڑی حد تک واقف ہے کیونکہ وہ بیجنگ کانفرنس سمیت دنیا بھر کی کئی کانفرنسوں میں شرکت کر چکی ہیں اور آزادئی نسواں کے لیے کام ہی نہیں کرتیں اس پر یقین بھی رکھتی ہیں۔
وہ برصغیر کے تمام ہی روایتی ناچوں پر گہری نظر رکھتی ہیں اس لیے انہوں نے اس رقص میں موہنجودڑو کی رقاصہ کے انداز سے لے کر بھگوان کرشن کے پوجا کے لیے ہونے والے تمام رقصوں کے رنگ دکھانے کی کوشش کی ہے۔ جو کم از کم مجھے کامیاب لگی ہےلیکن میں اس بات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں میں رقص کو ایک عام آدمی کی آنکھ سے ہی دیکھ سکتا ہوں اور میرے پرکھنے کا معیار یہ ہے کہ مرد ناچے تو عورت کو لبھائے اور اکسائے اور عورت ناچے تو مرد کو، اس میں عمروں اور اقسام کی قید نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ میں پر بھاؤ تاؤ کی تفہیم اپنے اعصاب اور حواس کے ردِ عمل سے کرتا ہوں دماغ سے نہیں۔ دوسری دن کا ایک اور پروگرام ان فنکاروں کی بیتیاں تھیں جو پاکستان کی معاشرتی ساخت اور آتے جاتے سیاسی نظاموں کی وجہ سے متاثر ہوئے۔اس روز طوطا رامہ دوبارہ پیش کیا گیا۔ اور اسی کے دوران ایک ورکشاپ میں ’کام کے دوران انگریزی زبان کے درجے‘ کو پرکھنے کی کوشش کی گئی۔تیسرے دن کا آعاز کہانی سنانے کے فن پر بھی ورکشاپ سے ہوا۔
اس تین روزہ فیسٹیول کا سارا انتظام کونٹیکسٹ تھیٹر کی زوے شونڈسن، آرٹسٹک ڈائریکٹر (یو-کے) کلئر پممنٹ، آرٹسٹک ڈائریکٹر (پاکستان) اور پروڈیوسر کسٹن برو نے آرٹس کونسل آف انگلینڈ ایسٹ اینڈ وزٹنگ آرٹس کے تعاون سے کیا تھا۔ لیکن اصل بات یہ لگی کہ ڈراموں میں مسلمان، ہندو، سکھ اور عیسائی اپنی قومیتوں اور ایمان و عقائد سے بالا ہو کر کام کر رہے تھے اور سب ایک سے انسان لگ رہے تھے اور اگر جغرافیے سے بالا ہو کر برصغیر میں بھی لوگ اس طرح رہنے لگ گئے تو پاکستان اور ہندوستان میں بھی اتنی بڑی فوجوں اور سازو سامان کی ضرورت کیا رہے گی۔ سنیہا فیسٹیول کے ڈراموں اور فلموں میں بغیر کہے جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ بس بہت ہو گیا: فوجیو اور سیاستدانوں اب ہمیں معاف کر دو اور انسانوں کی طرح رہنے دو۔ کیا ایسا ہو سکے گا؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||