فلم ’ہنو مان‘ نمائش کے لیے تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی وڈ نے فلم سازی کی صنعت میں ایک قدم آگے بڑھایا ہے اور اس نے اپنی پہلی اینی میشن فلم ’بے بی ہنومان‘ بنائی .جو بہت جلد نمائش کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔ بولی وڈ جس نے فلم سازی کی صنعت میں ہالی وڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اینی میشن فلمیں بنانی میں ابھی بھی کافی پیچھے ہے۔ دنیا بھر میں اینی میشن فلم سازی تیزی سے ترقی کر رہی ہے - سالانہ 50 ارب ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جبکہ بھارت میں صرف سالانہ ڈھائی کروڑ کا بزنس ہوتا ہے جو بہت ہی کم ہے۔ فلم بے بی ہنومان کالمکا بک آف ریکارڈز میں اپنا نام لکھاجا چکاہے۔ اس فلم کے ڈائرکٹروسنت گجانن سامنت بھارت میں اینی میشن کے استاد مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فلم بنانا ان کا خواب تھا جسے سہارا موشن پکچرزاور پرسیپٹ ( percept ) پکچر کمپنی نے ایک کروڑ امریکی ڈالر کے خرچ سے بناکر پورا کیا۔ سامنت کو اینی میشن فلمیں بنانے کے لئے ملکی اور غیر ملکی ایوارڈ مل چکے ہیں۔ انہوں نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس پروجیکٹ پر وہ گزشتہ 6 سال سے کام کر رہے تھے اور اسکو بنانے میں دو سال کا وقت لگا ہے۔اس فلم میں بارہ کردار ہیں اور اس میں بیس رنگوں کا استعمال کیا گيا ہے۔ اس کے لیے دو لاکھ تصاویر بنائی گئی ہیں۔ نوے منٹ کی اس فلم کی نمائش پوری دنیا میں کی جائیگی۔ سامنت کا کہنا ہے کہ اس سے قبل اینی میشن کی دنیا میں جو بھی کام ہوا تھا اس میں ساری تیکنیک بیرونی ممالک سے لی گئی تھی لیکن اس مرتبہ پورا کام بالی وڈ یعنی ممبئی میں ہواہے۔ پرسیپٹ پکچرز کے ڈائرکٹر شیلیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت میں اینی میشن کی ترقی کے کافی مواقع ہیں لیکن بولی وڈ کے فلمساز اس طرح کی فلمیں بنانے کا خطرہ مول لینا نہیں چاہتے ہیں۔ اس سے قبل فلم ہم تم میں ڈائرکٹر کنال نے ایک چھوٹی سی کوشش کی تھی جس میں رانی مکھرجی اور سیف علی خان کے کرداروں کو اینی میشن کے ذریعہ دکھایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||